حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 440
۴۴۰ کیا ( یعنی ارتکاب کبائر کیا ) تم خدا کی رحمت سے نومید مت ہو۔وہ تمہارے سب گناہ بخش دے گا۔اب ظاہر ہے کہ بنی آدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تو بندے نہیں ہیں بلکہ سب نبی و غیر نبی خدائے تعالیٰ کے بندے ہیں۔لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مولیٰ کریم سے قُرب اتم یعنی تیسرے درجے کا قرب حاصل تھا۔سو یہ یخن بھی مقام جمع سے سرزد ہوا اور مقام جمع قاب قوسین کا مقام ہے جس کی تفاصیل کتب تصوف میں موجود ہے۔ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے مقام جمع کے لحاظ سے کئی نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے رکھ دیئے ہیں جو خاص اُس کی صفتیں ہیں۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد رکھا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ نہایت تعریف کیا گیا۔سو یہ غایت درجہ کی تعریف حقیقی طور پر خدائے تعالیٰ کی شان کے لائق ہے۔مگر خالی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی۔ایسا ہی قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور جو دنیا کو روشن کرتا ہے اور رحمت جس نے عالم کو زوال سے بچایا ہوا ہے آیا ہے اور رؤوف اور رحیم جو خدائے تعالیٰ کے نام ہیں۔ان ناموں سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پکارے گئے ہیں اور کئی مقام قرآن شریف میں اشارات و تصریحات سے بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتم الوہیت ہیں اور ان کا کلام خدا کا کلام اور ان کا ظہور خدا کا ظہور اور ان کا آنا خدا کا آنا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں اس بارے میں ایک یہ آیت بھی ہے۔وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا کہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل نے بھا گنا ہی تھا۔حق سے مراد اس جگہ اللہ جل شانہ اور قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور باطل سے مراد شیطان اور شیطان کا گروہ اور شیطانی تعلیمیں ہیں۔سو دیکھو اپنے نام میں خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیونکر شامل کر لیا اور آنحضرت کا ظہور فرمانا خدائے تعالیٰ کا ظہور فرمانا ہوا ایسا جلالی ظہور جس سے شیطان معہ اپنے تمام لشکروں کے بھاگ گیا۔اور اس کی تعلیمیں ذلیل اور حقیر ہو گئیں اور اس کے گروہ کو بڑی بھاری شکست آئی۔اسی جامعیت تامہ کی وجہ سے سورۃ آل عمران جزو تیسری میں مفضل یہ بیان ہے کہ تمام نبیوں سے عہد و اقرار لیا گیا کہ تم پر واجب و لازم ہے کہ عظمت و جلالیت شان خاتم الرسل پر جو محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ایمان لاؤ اور ان کی اس عظمت اور جلالیت کی اشاعت کرنے میں بدل و جان مدد کرو۔اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کرتا حضرت مسیح کلمۃ اللہ جس قدر نبی و رسول گزرے ہیں وہ سب کی سب عظمت و جلالیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتے آئے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرآئیل : ۸۲۔