حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 431
۴۳۱ سے پہلے آدم کی محبت کا مصداق اس کی بیوی کو ہی بنایا ہے۔پس جو شخص اپنی بیوی سے محبت نہیں کرتا یا اس کی خود بیوی ہی نہیں وہ کامل انسان ہونے کے مرتبہ سے گرا ہوا ہے اور شفاعت کی دو شرطوں میں سے ایک شرط اُس میں مفقود ہے۔اس لئے اگر عصمت اُس میں پائی بھی جائے تب بھی وہ شفاعت کرنے کے لائق نہیں لیکن جو شخص کوئی بیوی نکاح میں لاتا ہے وہ اپنے لئے بنی نوع کی ہمدردی کی بنیاد ڈالتا ہے کیونکہ ایک بیوی بہت سے رشتوں کا موجب ہو جاتی ہے اور بچے پیدا ہوتے ہیں۔اُن کی بیویاں آتی ہیں اور بچوں کی نانیاں اور بچوں کے ماموں وغیرہ ہوتے ہیں۔اور اس طرح پر ایسا شخص خواہ نخواہ محبت اور ہمدردی کا عادی ہو جاتا ہے۔اور اُس کی اس عادت کا دائرہ وسیع ہو کر سب کو اپنی ہمدردی سے حصہ دیتا ہے۔لیکن جو لوگ جو گیوں کی طرح نشو نما پاتے ہیں اُن کو اس عادت کے وسیع کرنے کا کوئی موقع نہیں ملتا اس لئے ان کے دل سخت اور خشک رہ جاتے ہیں۔اور عصمت کو شفاعت سے کوئی حقیقی تعلق نہیں کیونکہ عصمت کا مفہوم صرف اس حد تک ہے کہ انسان گناہ سے بچے اور گناہ کی تعریف یہ ہے کہ انسان خدا کے حکم کو عمدا تو ڑ کر لائق سز ا ٹھہرے۔پس صاف ظاہر ہے کہ عصمت اور شفاعت میں کوئی تلازم ذاتی نہیں کیونکہ تعریف مذکورہ بالا کے رو سے نابالغ بچے اور پیدائشی مجنوں بھی معصوم ہیں وجہ یہ کہ وہ اس لائق نہیں ہیں کہ کوئی گناہ عمدا کریں اور نہ وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کسی فعل کے ارتکاب سے قابل سزا ٹھہرتے ہیں۔پس بلاشبہ وہ حق رکھتے ہیں کہ ان کو معصوم کہا جائے مگر کیا وہ یہ حق بھی رکھتے ہیں کہ وہ انسانوں کے شفیع ہوں اور منجی کہلا ئیں؟ پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ نجی ہونے اور معصوم ہونے میں کوئی حقیقی نہیں۔شفیع کے لئے جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے ضروری ہے کہ خدا سے اس کو ایک ایسا گہرا تعلق ہو کہ گویا خدا اُس کے دل میں اُترا ہوا ہو اور اس کی تمام انسانیت مرکز بال بال میں لاہوتی تحبیبی پیدا ہوگئی ہو۔اور اس کی رُوح پانی کی طرح گداز ہو کر خدا کی طرف بہ نکلی ہو اور اس طرح پر الہی قرب کے انتہائی نقطہ پر جا پہنچی ہو۔اور اسی طرح شفیع کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جس کے لئے وہ شفاعت کرنا چاہتا ہے اُس کی ہمدردی میں اس کا دل اُڑا جاتا ہوا ایسا کہ گویا عنقریب اس پر غشی طاری ہوگی۔گویا شدت قلق سے اُس کے اعضاء اُس سے علیحدہ ہوتے جاتے ہیں اور اُس کے حواس منتشر ہیں اور اُس کی ہمدردی نے اُس کو اس مقام تک پہنچایا ہو کہ جو باپ سے بڑھ کر اور ماں سے بڑھ کر اور ہر ایک غم خوار سے بڑھ کر ہے۔پس جب یہ دونوں حالتیں اس میں پیدا ہو جائیں گی تو وہ ایسا ہو جائے گا کہ گویا وہ ایک