حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 432 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 432

۴۳۲ طرف سے لاہوت کے مقام سے جفت ہے اور دوسری طرف ناسوت کے مقام سے جفت ، تب دونوں پلہ میزان کے اُس میں مساوی ہوں گے۔یعنی وہ مظہر لاہوت کامل بھی ہوگا اور مظہر ناسوت کامل بھی اور بطور برزخ دونوں حالتوں میں واقع ہوگا۔اس طرح پر۔۔۔ان جوتے سلام عند موت اسی مقامِ شفاعت کی طرف قرآن شریف میں اشارہ فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شفیع ہونے کی شان میں فرمایا ہے دَنَا فَتَدَلَّى - فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی ہے یعنی یہ رسول خدا کی طرف چڑھا اور جہاں تک امکان میں ہے خدا سے نزدیک ہوا۔اور قرب کے تمام کمالات کو طے کیا اور لا ہو تی مقام سے پورا حصہ لیا۔اور پھر ناسُوت کی طرف کامل رجوع کیا۔یعنی عبودیت کے انتہائی نقطہ تک اپنے تئیں پہنچایا اور بشریت کے پاک لوازم یعنی بنی نوع کی ہمدردی اور محبت سے جو ناسوتی کمال کہلاتا ہے پورا حصہ لیا۔لہذا ایک طرف خدا کی محبت میں اور دوسری بنی نوع کی محبت میں کمال تام تک پہنچا۔پس چونکہ وہ کامل طور پر خدا سے قریب ہوا اور پھر کامل طور پر بنی نوع سے قریب ہوا۔اس لئے دونوں طرف کے مساوی قرب کی وجہ سے ایسا ہو گیا۔جیسا کہ دو قوسوں میں ایک خط ہوتا ہے۔لہذا وہ شرط جو شفاعت کے لئے ضروری ہے اس میں پائی گئی اور خدا نے اپنے کلام میں اس کے لئے گواہی دی کہ وہ اپنے بنی نوع میں اور اپنے خدا میں ایسے طور سے درمیان ہے جیسا کہ وتر دوقوسوں کے درمیان ہوتا ہے۔اور پھر ایک اور مقام میں اس کے الہی قرب کی نسبت یوں فرمایا۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے یعنی لوگوں کو اطلاع دے دے کہ میری یہ حالت ہے کہ میں اپنے وجود سے بالکل کھویا گیا ہوں۔میری تمام عبادتیں خدا کے لئے ہوگئی ہیں۔یہ آیت بتلا رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر خدا میں گم اور محو ہو گئے تھے کہ آپ کی زندگی کے تمام انفاس اور آپ کی موت محض خدا کے لئے ہو گئی تھی۔اور آپ کے وجود میں نفس اور مخلوق اور اسباب کا کچھ حصہ باقی نہیں رہا تھا اور آپ کی روح خدا کے آستانہ پر ایسے اخلاص سے رگری تھی کہ اس میں غیر کی ایک ذرہ آمیزش نہیں رہی تھی۔۔۔اور چونکہ خدا سے محبت کرنا اور اس کی محبت میں اعلیٰ مقام قرب تک پہنچنا ایک ایسا امر ہے جو کسی غیر کو اس پر پر اطلاع نہیں ہو سکتی اس لئے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے افعال ظاہر کئے جن النجم : ١٠٩ الانعام : ١٦٣