حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 426

۴۲۶ اسفل مخلوق سے سلسلہ پیدائش کا شروع کر کے اس اعلیٰ درجہ کے نقطہ تک پہنچا دیا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔جس کے معنے یہ ہیں کہ نہایت تعریف کیا گیا یعنی کمالاتِ تامہ کا مظہر۔سوجیسا کہ فطرت کے رو سے اس نبی کا اعلیٰ اور ارفع مقام تھا ایسا ہی خارجی طور پر بھی اعلیٰ و ارفع مرتبہ وحی کا اُس کو عطا ہوا اور اعلیٰ وارفع مقام محبت کا ملا۔یہ وہ مقام عالی ہے کہ میں اور مسیح دونوں اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔اس کا نام مقام جمع اور مقام وحدت تامہ ہے۔پہلے نبیوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دی ہے اسی پتہ ونشان پر خبر دی ہے اور اسی مقام کی طرف اشارہ کیا ہے اور جیسا کہ مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں ایسا ہی یہ وہ مقام عالی شان مقام ہے کہ گذشتہ نبیوں نے استعارہ کے طور پر صاحب مقام ھذا کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دے دیا ہے اور اس کا آنا خدائے تعالیٰ کا آنا ٹھہرایا ہے۔توضیح مرام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۲ تا ۶۴) ہمارے سید و مولیٰ جناب مقدس خاتم الانبیاء کی نسبت صرف حضرت مسیح نے ہی بیان نہیں کیا کہ آنجناب کا دنیا میں تشریف لانا در حقیقت خدائے تعالیٰ کا ظہور فرمانا ہے بلکہ اس طرز کا کلام دوسرے نبیوں نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اپنی اپنی پیشگوئیوں میں بیان کیا ہے اور استعارہ کے طور پر آنجناب کے ظہور کو خدائے تعالیٰ کا ظہور قرار دیا ہے بلکہ بوجہ خدائی کے مظہر اتم ہونے کے آنجناب کو خدا کر کے پکارا ہے چنانچہ حضرت داؤد کے زبور میں لکھا ہے۔تو حسن میں بنی آدم سے کہیں زیادہ ہے۔تیرے لبوں میں نعمت بنائی گئی اس لئے خدا نے تجھ کو ابد تک مبارک کیا ( یعنی تو خاتم الانبیاء پٹھہر ) اے پہلوان تو جاہ و جلال سے اپنی تلوار حمائل کر کے اپنی ران پر لٹکا۔امانت اور حلم اور عدالت پر اپنی بزرگواری اور اقبال مندی سے سوار ہو کر تیرا دہنا ہاتھ تجھے ہیبت ناک کام دکھائے گا۔بادشاہ کے دشمنوں کے دلوں میں تیرے تبر تیزی کرتے ہیں۔لوگ تیرے سامنے گڑ جاتے ہیں۔اے خدا تیرا تخت ابد الآباد ہے۔تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے۔تو نے صدق سے دوستی اور شر سے دشمنی کی ہے اسی لئے خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تجھے معطر کیا ہے۔(دیکھوز بور ۴۵) اب جاننا چاہئے کہ زبور کا یہ فقرہ کہ اے خدا تیرا تخت ابد الآباد ہے۔تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے۔یہ محض بطور استعارہ ہے جس سے غرض یہ ہے کہ جو روحانی طور پر شان محمدی ہے اُس کو ظاہر کر دیا جائے۔پھر یسعیاہ نبی کی کتاب میں بھی ایسا ہی لکھا ہے چنانچہ اس کی عبارت یہ ہے۔