حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 425

۴۲۵ مراتب قرب و محبت باعتبار اپنے روحانی درجات کے تین قسم پر منقسم ہیں۔سب سے ادنی درجہ جو درحقیقت وہ بھی بڑا ہے یہ ہے کہ آتش محبت الہی لوح قلب انسان کو گرم تو کرے اور ممکن ہے کہ ایسا گرم کرے کہ بعض آگ کے کام اس محرور سے ہو سکیں لیکن یہ کسر باقی رہ جائے کہ اس متاثر میں آگ کی چمک پیدا نہ ہو۔اس درجہ کی محبت پر جب خدائے تعالیٰ کی محبت کا شعلہ واقع ہو تو اُس شعلہ سے جس قدر روح میں گرمی پیدا ہوتی ہے اس کو سکیت واطمینان اور کبھی فرشتہ و ملک کے لفظ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔دوسرا درجہ محبت کا وہ ہے جس میں دونوں محبتوں کے ملنے سے آتش محبت الہی لوح قلب انسان کو اس قدر گرم کرتی ہے کہ اُس میں آگ کی صورت پر ایک چمک پیدا ہو جاتی ہے لیکن اُس چمک میں کسی قسم کا اشتعال یا بھڑک نہیں ہوتی فقط ایک چمک ہوتی ہے جس کو رُوح القدس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔تیسرا درجہ محبت کا وہ ہے جس میں ایک نہایت افروختہ شعلہ محبت الہی کا انسانی محبت کے مستعد فتیلہ پر پڑ کر اس کو افروختہ کر دیتا ہے اور اس کے تمام اجزا اور تمام رگ و ریشہ پر استیلاء پکڑ کر اپنے وجود کا اتم اور اکمل مظہر اس کو بنا دیتا ہے اور اس حالت میں آتشِ محبت الہی لوحِ قلب انسان کو نہ صرف ایک چمک بخشتی ہے بلکہ معاً اس چمک کے ساتھ تمام وجود بھڑک اٹھتا ہے اور اس کی لوئیں اور شعلے اردگرد کو روز روشن کی طرح روشن کر دیتے ہیں اور کسی قسم کی تاریکی باقی نہیں رہتی اور پورے طور پر اور تمام صفات کاملہ کے ساتھ وہ سارا وجود آگ ہی آگ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت جو ایک آتش افروختہ کی صورت پر دونوں محبتوں کے جوڑ سے پیدا ہو جاتی ہے اُس کو رُوح امین کے نام سے بولتے ہیں کیونکہ یہ ہر یک تاریکی سے امن بخشتی ہے اور ہر یک غبار سے خالی ہے اور اُس کا نام شدید القویٰ بھی ہے کیونکہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقت وحی ہے جس سے قوی تر وحی متصور نہیں اور اُس کا نام ذ والافق الاعلیٰ بھی ہے کیونکہ یہ وحی الہی کے انتہائی درجہ کی تجلی ہے اور اس کو رَأَى مَارَأی کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کیونکہ اس کیفیت کا اندازہ تمام مخلوقات کے قیاس اور گمان اور وہم سے باہر ہے۔اور یہ کیفیت صرف دنیا میں ایک ہی انسان کو ملی ہے جو انسانِ کامل ہے جس پر تمام سلسلہ انسانیہ کا ختم ہو گیا ہے اور دائرہ استعدادات بشریہ کا کمال کو پہنچا ہے اور وہ در حقیقت پیدائش الہی کے خط ممتد کی اعلیٰ طرف کا آخری نقطہ ہے جو ارتفاع کے تمام مراتب کا انتہا ہے۔حکمت الہی کے ہاتھ نے ادنیٰ سے ادنی خلقت سے اور اسفل سے