حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 32
۳۲ مسکینی سے دنیا میں رہوں۔خدا کے کلام میں قدیم سے وعدہ تھا کہ ایسا انسان دنیا میں پیدا ہو۔اسی لحاظ سے خدا نے میرا نام مسیح موعود رکھا۔یعنی ایک شخص جو عیسی مسیح کے اخلاق کے ساتھ ہم رنگ ہے۔( کشف الغطاء۔روحانی خزائن جلد۴ اصفحہ ۱۹۲) مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا۔میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۶۱) اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے۔اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت با ہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جوہر کے دوٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدی اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی بار یک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا۔اور اس کی انجیل تو ریت کی فرع ہے۔اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔اگر وہ حامد ہیں تو وہ احمد ہے۔اگر وہ محمود ہیں تو وہ محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔(براہین احمدیہ ہر چہار قصص - روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۹۴٬۵۹۳ حاشیه در حاشیه نمبر۳) عیسائیوں نے شور مچارکھا تھا کہ مسیح بھی اپنے قرب اور وجاہت کے رُو سے واحد لاشریک ہے۔اب خدا بتلاتا ہے کہ دیکھو میں اس کا ثانی پیدا کروں گا جو اس سے بھی بہتر ہے جو غلام احمد ہے یعنی احمد کا غلام۔زندگی بخش جام احمد ہے کیا ہی پیارا نام احمد ہے би ہوں انبیاء بخدا بڑھ کر مقام احمد ہے باغ احمد ہم نے پھل کھایا میرا بستان کلام ہے ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس ނ ا بہتر غلام احمد ہے