حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 31
۳۱ ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔میں انسان ہوں مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں۔بات یہی ہے جو چاہے قبول کرے یا نہ کرے۔میں نہیں جانتا کہ خدا نے ایسا کیوں کیا۔ہاں میں اس قدر جانتا ہوں کہ آسمان پر خدا تعالیٰ کی غیرت عیسائیوں کے مقابل پر بڑا جوش مار رہی ہے۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے مخالف وہ توہین کے الفاظ استعمال کئے ہیں کہ قریب ہے کہ ان سے آسمان پھٹ جائیں۔پس خدا دکھلاتا ہے کہ اس رسول کے ادنیٰ خادم اسرائیلی مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہیں۔جس شخص کو اس فقرہ سے غیظ و غضب ہو اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنے غیظ سے مر جائے مگر خدا نے جو چاہا ہے کیا اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔کیا انسان کا مقدور ہے کہ وہ اعتراض کرے کہ ایسا تو نے کیوں کیا؟ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۴٬۱۵۳) مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا۔اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا اور خدا کا فضل اپنے سے زیادہ مجھ پر پاتا۔جبکہ میں ایسا ہوں تو اب سوچو کہ کیا مرتبہ ہے اس پاک رسول کا جس کی غلامی کی طرف میں منسوب کیا گیا۔ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ - کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۹ اصفه۶۰) اور حضرت عیسی کے نام پر اس عاجز کے آنے کا ستر یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس عیسائی فتنہ کے وقت میں یہ فتنہ حضرت مسیح کو دکھایا۔یعنی ان کو آسمان پر اس فتنہ کی اطلاع دے دی کہ تیری قوم اور تیری امت نے اس طوفان کو برپا کیا ہے تب وہ اپنی قوم کی خرابی کو کمال فساد پر دیکھ کر نزول کے لئے بے قرار ہوا اور اس کی رُوح سخت جنبش میں آئی اور اُس نے زمین پر اپنی ارادات کا ایک مظہر چاہا۔تب خدا تعالیٰ نے اس وعدہ کے موافق جو کیا گیا تھا مسیح کی روحانیت اور اس کے جوش کو ایک جوہر قابل میں نازل کیا۔سوان معنوں کر کے وہ آسمان سے اترا۔اُسی کے موافق جو ایلیا نبی یوحنا کے رنگ میں اُتر ا تھا۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۶۹،۲۶۸ حاشیه ) جیسا کہ وہ نبی شہزادہ دنیا میں غربت اور مسکینی سے آیا اور غربت اور مسکینی اور حلم کا دنیا کو نمونہ دکھلایا۔اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ اس کے نمونہ پر مجھے بھی جو امیری اور حکومت کے خاندان سے ہوں اور ظاہری طور پر بھی اس شہزادہ نبی اللہ کے حالات سے مشابہت رکھتا ہوں۔ان لوگوں میں کھڑا کرے جو ملکوتی اخلاق سے بہت دُور جا پڑے ہیں۔سو اس نمونہ پر میرے لئے خدا نے یہی چاہا ہے کہ میں غربت اور