حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 402

کی کچی معرفت اور کامل شناسائی تک پہنچ گیا ہے۔کون ہم کو ثابت کر کے دکھلا سکتا ہے کہ کوئی ایسا زمانہ بھی تھا کہ دنیا میں الہام الہی کا نام ونشان نہ تھا اور خدا کی مقدس کتابوں کا دروازہ بند تھا اور اس زمانے کے لوگ محض صحیفہ ، فطرت کے ذریعہ سے توحید اور خدا شناسی پر قائم تھے۔کون کسی ایسے ملک کا نشان بتلا سکتا ہے جس کے باشندے الہام کے وجود سے محض بے خبر رہ کر پھر فقط عقل کے ذریعہ سے خدا تک پہنچ گئے اور صرف اپنی ہی فکر ونظر سے وحدانیت حضرت باری پر ایمان لے آئے۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۲۰،۲۱۹ حاشیہ نمبر۱۱) یہ بات کہ کیوں توحید خالص الہام الہی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی اور کیوں الہام کا منکر شرک کی آلودگی سے پاک نہیں ہوتا خود تو حید کی حقیقت پر نظر کرنے سے معلوم ہو سکتی ہے۔کیونکہ تو حید اس بات کا نام ہے کہ خدا کی ذات اور صفات کو شرکت بالغیر سے منزہ سمجھیں اور جو کام اس کی قوت اور طاقت سے ہونا چاہئے وہ کام دوسرے کی طاقت سے انجام پذیر ہو جانا روا نہ رکھیں اسی توحید کے چھوڑنے سے آتش پرست، آفتاب پرست، بُت پرست و غیره و غیره مشرک کہلاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بتوں اور دیوتاؤں سے ایسی ایسی مرادیں مانگتے ہیں جن کا عطا کرنا صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔اب ظاہر ہے کہ جولوگ الہام سے انکاری ہیں وہ بھی بُت پرستوں کی طرح خدا کی صفتوں سے مخلوق کا متصف ہونا اعتقاد رکھتے ہیں۔اور اس قادر مطلق کی طاقتوں کا بندوں میں پایا جانا مانتے ہیں کیونکہ ان کا یہ خیال ہے کہ ہم نے اپنی ہی عقل کے زور سے خدا کا پتہ لگایا ہے۔اور ہمیں انسانوں کو ابتدا میں یہ خیال آیا تھا کہ کوئی خدا مقرر کرنا چاہئے اور ہماری ہی کوششوں سے وہ گوشہ گمنامی سے باہر نکلا۔شناخت کیا گیا۔معبودِ خلائق ہوا۔قابل پرستش ٹھہرا۔ورنہ پہلے اسے کون جانتا تھا ؟ اس کے وجود کی کسے خبر تھی ؟ ہم عقلمند لوگ پیدا ہوئے تب اس کے بھی نصیب جاگے۔کیا یہ اعتقاد بُت پرستوں کے اعتقاد سے کچھ کم ہے؟ ہرگز نہیں۔اگر کچھ فرق ہے تو صرف اتنا ہے کہ بُت پرست لوگ اور اور چیزوں کو اپنا منعم اور محسن قرار دیتے ہیں اور یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر اپنی ہی دود آمیز عقل کو اپنی ہادی اور محسن جانتے ہیں بلکہ اگر غور کیجئے تو بُت پرستوں سے بھی اُن کا پلہ کچھ بھاری معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگر چہ بُت پرست اس بات کے تو قائل ہیں کہ خدا نے ہمارے دیوتاؤں کو بڑی بڑی طاقتیں دے رکھی ہیں اور وہ کچھ نذر نیاز لے کر اپنے پوجاریوں کو مرادیں دے دیا کرتے ہیں لیکن اب تک انہوں نے یہ رائے ظاہر نہیں کی کہ خدا کا پتہ انہیں دیوتاؤں نے لگایا ہے اور یہ نعمت عظمی وجو د حضرت باری کی انہیں کے زور بازو سے معلوم ہوئی ہے۔یہ بات تو