حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 403 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 403

۴۰۳ انہی حضرات (منکرین الہام) کو سو بھی جنہوں نے خدا کو بھی اپنی ایجادات کی فہرست میں درج کر لیا اور بکمال خرد ماغی بلند آواز سے بول اُٹھے کہ خدا کی طرف سے اَنَا المَوجُود ہونے کی کبھی آواز نہیں آئی یہ ہماری ہی بہادری ہے جنہوں نے خود بخود بے جتلائے بے بتلائے اسے معلوم کر لیا۔وہ تو ایسا چپ تھا جیسے کوئی سویا ہوا یا مرا ہوا ہوتا ہے ہمیں نے فکر کرتے کرتے کھودتے کھودتے اُس کا کھوج لگایا گویا خدا کا احسان تو ان پر کیا ہونا تھا ایک طور پر انہیں کا خدا پر احسان ہے کہ اس بات کی پختہ خبر ملنے کے بغیر کہ خدا بھی ہے اور اس امر کے یقین کامل ہونے کے بدوں کہ اس کی نافرمانی سے ایسا ایسا عذاب اور اس کی فرمانبرداری سے ایسا ایسا انعام مل رہے گا یونہی بے کہے کہائے اور سُنے سُنائے کے اس خدائی کے موہوم کی فرمانبرداری کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا۔گویا آپ ہی پکایا اور آپ ہی کھایا۔لیکن خدا ایسا کمزور اور ضعیف تھا کہ اُس سے اتنا نہ ہو سکا کہ اپنے وجود کی آپ خبر دیتا اور اپنے وعدوں کے بارے میں آپ تسلی بخشتا بلکہ وہ چھپا ہوا تھا۔انہوں نے ظاہر کیا۔وہ گمنام تھا انہوں نے شہرت دی وہ چپ تھا انہوں نے اس کا کام آپ کیا۔گویا وہ تھوڑی سی مدت سے اپنی خدائی میں مشہور ہوا ہے اور وہ بھی ان کی کوششوں سے ہر یک عاقل جانتا ہے کہ یہ قول بت پرستوں سے بھی بڑھ کر ہے۔کیونکہ بُت پرست لوگ اپنے دیوتاؤں کو صرف اپنی نسبت محسن اور منعم قرار دیتے ہیں لیکن منکرین الہام نے تو حد کر دی کہ اُن کے زعم میں ان کی دیوی کا ( کہ عقل ہے) نہ فقط لوگوں پر بلکہ خدا پر بھی احسان ہے جس کے ذریعہ سے (بقول ان کے ) خدا نے شہرت پائی۔اس صورت میں نہایت روشن ہے کہ الہام کے انکاری ہونے سے صرف اُن میں یہی فساد نہیں کہ خدا کے وجود پر مشتبہ اور مظنون طور پر ایمان لاتے ہیں اور طرح طرح کی غلطیوں میں مبتلا ہیں بلکہ یہ فساد بھی ہے کہ توحید کامل سے بھی محروم اور بے نصیب ہیں اور شرک سے آلودہ ہیں کیونکہ شرک اور کیا ہوتا ہے؟ یہی تو شرک ہے کہ خدا کے احسانات اور انعامات کو دوسرے کی طرف سے سمجھا جاوے۔(براہین احمد یہ ہر چہار تخصص۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۶۵ تا ۱۶۷ حاشیہ نمبر۱۱) آسمانی نشانوں سے حصہ لینے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔اوّل وہ جو کوئی ہنر اپنے اندر نہیں رکھتے اور کوئی تعلق خدا تعالیٰ سے اُن کا نہیں ہوتا صرف دماغی مناسبت کی وجہ سے اُن کو بعض سچی خوا ہیں آجاتی ہیں اور سچے کشف ظاہر ہو جاتے ہیں۔جن میں کوئی مقبولیت اور محبوبیت کے آثار ظاہر نہیں ہوتے اور ان سے کوئی فائدہ اُن کی ذات کو نہیں ہوتا اور ہزاروں شریر اور بدچلن اور فاسق و فاجر ایسی بدبودار