حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 400
۴۰۰ کرتے کرتے آخر اس قدر انہیں بھی کہنا پڑا کہ اِنْ هذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ لا جز و نمبر ۲۳ ہاں وہی ہے جس کی زبر دست کششوں نے ہزار ہا درجہ عادت سے بڑھ کر ایسا خدا کی طرف خیال دلایا کہ لاکھوں خدا کے بندوں نے خدا کی وحدانیت پر اپنے خون سے مُہر میں لگا دیں۔ایسا ہی ہمیشہ سے بانی کار اور ہادی اس کام کا الہام ہی چلا آیا ہے جس سے انسانی عقل نے نشو و نما پایا۔ورنہ بڑے بڑے حکیموں اور عظمندوں کے لئے بھی یہ بات سخت محال رہی ہے کہ اُن کو اُمور ماوراء المحسوسات کی ہر جزئی کے دریافت کرنے میں ایسا موقعہ ہمیشہ مل جائے کہ یہ بات معلوم کر سکیں کہ کس کس وضع اور خصوصیت سے وہ جزئیات موجود ہیں اور جن کو طاقت بشری تک عقل حاصل ہی نہیں یا جہد اور کوشش کرنے کے سامان میسر نہیں آئے وہ تو اُن کی نسبت بھی زیادہ لاعلم اور بے خبر ہیں۔پس اس بارہ میں جو جو سہولتیں خدا کے نیچے اور کامل الہام نے کہ جو قرآن شریف ہے عقل کو عطا کی ہیں اور جن جن سرگردانیوں سے فکر اور نظر کو بچایا ہے وہ ایک ایسا امر ہے کہ جس کا ہر یک عاقل کو شکر کرنا لازم ہے۔سو کیا اس اعتبار سے کہ ابتداء امر خداشناسی کی الہام ہی کے ذریعہ سے ہوئی ہے اور کیا اس وجہ سے کہ معرفت الہی کا ہمیشہ از سرنو زندہ ہونا الہام ہی کے ہاتھ سے ہوتا آیا ہے۔اور کیا اس خیال سے کہ مشکلات راہ سے رہائی پانا الہام ہی کی امداد پر منحصر ہے۔ہر عاقل کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ راہ جو نہایت صاف اور سیدھی اور ہمیشہ سے کھلی ہوئی اور مقصود تک پہنچاتی ہوئی چلی آئی ہے وہ وحی کر بانی ہے اور یہ سمجھنا کہ وہ کھلا ہوا صحیفہ نہیں محض لا طائل اور سراسر حمق ہے۔علاوہ برآں ہم پہلے اِس سے برہمو سماج والوں کی خداشناسی کے بارہ میں بہ تفصیل لکھ چکے ہیں کہ ایمان اُن کا جو صرف دلائل عقلیہ پر مبنی ہے۔ہونا چاہیے کے مرتبہ تک محدود ہے اور مرتبہء کاملہ ہے کا انہیں نصیب نہیں۔سو اس تحقیقات سے بھی یہی ثابت ہے کہ کھلا ہوا اور واضح راستہ معرفت الہی کا صرف بذریعہ کلام الہی ملتا ہے۔اور کوئی ذریعہ اس کے وصول وحصول کا نہیں۔ایک بچہ نوزاد کو تعلیم سے محروم رکھ کر صرف صحیفہ فطرت پر چھوڑ دو پھر دیکھو کہ وہ اس صحیفہ کے ذریعہ سے جس کو برہمو سماج والے کھلا ہوا خیال کر رہے ہیں کون سی معرفت حاصل کر لیتا ہے اور کس درجہ خداشناسی پر پہنچ جاتا ہے بہت سے تجارب سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اگر کوئی سماعی طور پر جس کا اصل الہام ہے خدا کے وجود سے اطلاع نہ پاوے تو پھر اُس کو کچھ پتہ نہیں لگتا کہ اس عالم کا کوئی صانع ہے یا نہیں۔اور اگر کچھ صانع کی تلاش میں توجہ بھی کرے تو صرف بعض مخلوقات جیسے پانی ، آگ، چاند سورج وغیرہ کو اپنی نظر میں خالق و قابل پرستش الصفت : ١٦