حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 399
۳۹۹ اعلیٰ درجہ پر پہنچا ہوا ہوتا ہے۔سو یہ کمالیت بھی اسی شخص کی تقریر میں متفق ہوسکتی ہے کہ جس کو دوہرے طور پر معرفت الہی حاصل ہو۔اور یہ خود ہر ایک عاقل پر روشن ہے کہ پُر جوش تقریر کہ جس پر ترتیب اثر موقوف ہے تب ہی انسان کے منہ سے نکلتی ہے کہ جب دل اس کا یقین کے جوش سے پُر ہو اور وہی باتیں دلوں پر بیٹھتی ہیں جو کامل الیقین دلوں سے جوش مار کر نکلتی ہیں۔پس اس جگہ بھی یہی ثابت ہوا کہ باعتبار شدت اثر بھی الہامی تربیت ہی مُنْفَتِحُ الابواب ہے۔غرض باعتبار عمومیت تا خیر اور باعتبار شدت تاثیر فقط صحیفہ وحی کا کھلا ہوا ہونا بپایہ ثبوت پہنچتا ہے وبس۔اور یہ مسئلہ بدیہات سے کچھ کم نہیں ہے کہ خدا کے بندوں کو زیادہ تر نفع پہنچانے والا وہی شخص ہوتا ہے کہ جو الہام اور عقل کا جامع ہو اور اُس میں یہ لیاقت ہوتی ہے کہ ہر یک طور کی طبیعت اور ہر قسم کی فطرت اُس سے مستفیض ہو سکے۔مگر جو شخص صرف براہین منطقیہ کے زور سے راہ راست کی طرف کھچنا چاہتا ہے اگر اُس کی مغز زنی پر کچھ ترتیب اثر بھی ہو تو صرف اُنہی خاص طبیعتوں پر ہوگا کہ جو بوجہ تعلیم یافتہ ولائق و فائق ہونے کے اس کی عمیق و دقیق باتوں کو سمجھتے ہیں۔دوسرے تو ایسا دل و دماغ ہی نہیں رکھتے کہ جو اُس کی فلاسفری تقریر کو سمجھ سکیں۔ناچار اس کے علم کا فیضان فقط اُنہیں قدر قلیل لوگوں میں محدود رہتا ہے کہ جو اس کی منطق سے واقف ہیں۔اور اُنہیں کو اُس کا فائدہ پہنچتا ہے کہ جو اس کی طرح معقولی حجتوں میں دخل رکھتے ہیں۔اس امر کا ثبوت اُس حالت میں بوضاحت تمام ہو سکتا ہے کہ جب مجرد عقل اور الہام حقیقی کی کارروائیوں کو پہلو بہ پہلو رکھ کر وزن کیا جاوے۔چنانچہ جن کو گذشتہ حکماء کے حالات سے اطلاع ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کیسے وہ لوگ اپنی تعلیم کی اشاعت عامہ سے ناکام رہے اور کیونکر اُن کے منقبض اور نا تمام بیان نے عام دلوں پر مؤثر ہونے سے اپنی محرومی دکھلائی اور پھر ہمقابلہ اس حالت منتقزلہ اُن کی کے قرآن شریف کی اعلیٰ درجہ کی تاثیروں کو بھی دیکھئے کہ کس قوت سے اُس نے وحدانیت الہی کو اپنے سچے متبعین کے دلوں میں بھرا ہے اور کس عجیب طور سے اُس کی عالی شان تعلیموں نے صد ہا سالوں کی عادات را سخہ اور ملکات رد سیہ کا قلع و قمع کر کے اور ایسی رسوم قدیمہ کو کہ جو طبیعت ثانی کی طرح ہو گئیں تھیں دلوں کے رگ وریشہ سے اٹھا کر وحدانیت الہی کا شربت عذب کروڑ ہا لوگوں کو پلا دیا ہے۔وہی ہے جس نے اپنا کار نمایاں اور نہایت عمدہ اور دیر پا نتائج دکھلا کر اپنی بے نظیر تاثیر کی دو بدو شہادت سے بڑے بڑے معاندوں سے اپنی لاثانی فضیلتوں کا اقرار کرایا۔یہاں تک کہ سخت بے ایمانوں اور سرکشوں کے دلوں پر بھی اس کا اس قدراثر پڑا کہ جس کو انہوں نے قرآن شریف کی عظمت شان کا ایک ثبوت سمجھا اور بے ایمانی پر اصرار