حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 398

۳۹۸ واقعات معاد میں اپنا تجربہ اور امتحان اور ملاحظہ اور معائنہ بیان کرتا ہے اور ساتھ ہی دلائل عقلیہ بھی سمجھاتا ہے وہ حقیقت میں ایک دوہرا زور اپنے پاس رکھتا ہے کیونکہ ایک تو اس کی نسبت یہ یقین کیا گیا ہے کہ وہ واقعہ نفس الامر کا معائنہ کرنے والا اور سچائی کو بچشم خود دیکھنے والا ہے اور دوسرے وہ بطور معقول بھی سچائی کی روشنی کو دلائل واضحہ سے ظاہر کرتا ہے۔پس ان دونوں ثبوتوں کے اشتمال سے ایک زبر دست کشش اس کے وعظ اور نصیحت میں ہو جاتی ہے کہ جو بڑے بڑے سنگین دلوں کو کھینچ لاتی ہے اور ہر نوع کے نفس پر کارگر بھی پڑتی ہے کیونکہ اس کی بات میں مختلف طور کی تفہیم کی قدرت ہوتی ہے جس کے سمجھنے کے لئے ایک خاص لیاقت کے لوگ شرط نہیں ہیں بلکہ ہر ایک ادنیٰ و اعلیٰ و زیرک و غمی بجز ایسے شخص کے کہ جو بکلی مسلوب العقل ہو اس کی تقریروں کو سمجھ سکتے ہیں اور وہ فورا ہر یک قسم کے آدمی کی اُسی طور پر تسلی کر سکتا ہے کہ جس طور پر اس آدمی کی طبیعت واقعہ ہے یا جس درجہ پر اس کی استعداد پڑی ہوئی ہے۔اس لئے کلام اُس کی خدا کی طرف خیالات کو کھینچنے میں اور دنیا کی محبت چھوڑانے میں اور احوال الآخرت نقش دل کرنے میں بڑی وسیع قدرت رکھتی ہے۔اور اُن تنگ اور تاریک تصوروں میں محدود نہیں ہوتی۔جن میں مجرد عقل پرستوں کی باتیں محدود ہوتیں ہیں۔اسی جہت سے اس کا اثر عام اور اس کا فائدہ تام ہوتا ہے۔اور ہر یک ظرف اپنی اپنی وسعت کے مطابق اس سے پُر ہو جاتا ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ مقدس میں اشارہ فرمایا ہے۔اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا یا نمبر ۱۳۔خدا نے آسمان سے پانی (اپنا کلام ) اُتارا۔سو اس پانی سے ہر یک وادی اپنی قدر کے موافق بہ نکلی۔یعنی ہر ایک کو اس میں سے اپنی طبیعت اور خیال اور لیاقت کے موافق حصہ ملا طبائع عالیہ اسرار حکمیہ سے متمتع ہوئیں اور جو اُن سے بھی اعلیٰ تھے انہوں نے ایک عجیب روشنی پائی کہ جو حد تحریر و تقریر سے خارج ہے اور جو کم درجہ پر تھے انہوں نے مخبر صادق کی عظمت اور کمالیت ذاتی کو دیکھ کر دلی اعتقاد سے اس کی خبروں پر یقین کر لیا اور اس طرح پر وہ بھی یقین کی کشتی میں بیٹھ کر ساحل نجات تک جا پہنچے اور صرف وہی لوگ باہر رہ گئے جن کو خدا سے کچھ غرض نہ تھی اور فقط دنیا کے ہی کیڑے تھے اور نیز قوت اثر پر نظر کرنے سے بھی طریق متابعت الہام کا نہایت گھلا ہوا اور وسیع معلوم ہوتا ہے کیونکہ جاننے والے اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ تقریر میں اُسی قدر برکت اور جوش اور قوت اور عظمت اور دلکشی پیدا ہوتی ہے کہ جس قدر متکلم کا قدم مدارج یقین اور اخلاص اور وفاداری کے الرعد : ۱۸