حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 397 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 397

۳۹۷ ان سب کے غیر محل استعمال کرنے سے باز پرس ہو گی۔اور ہر ایک کمی و بیشی اور افراط اور تفریط کے بارہ میں سوال کیا جائے گا۔اب دیکھو اعضا اور تمام قوتوں کو مجری خیر اور صلاحیت پر چلانے کے لئے کس قدر تصریحات و تاکیدات خدا کے کلام میں موجود ہیں۔اور کیسے ہر یک عضو کو مرکز اعتدال اور خط استوا پر قائم رکھنے کے لئے بکمال وضاحت بیان فرمایا گیا ہے جس میں کسی نوع کا ابہام و اجمال باقی نہیں رہا۔کیا یہ تصریح و تفصیل صحیفہ قدرت کے کسی صفحہ کو پڑھ کر معلوم ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔سواب تم آپ ہی سوچو کہ کھلا ہوا اور واضحہ صحیفہ یہ ہے یا وہ۔اور فطرتی دلالتوں کے مصالحہ اور حدود کو اُس نے بیان کیا یا اس نے۔اے حضرات !! اگر اشارات سے کام نکلتا تو پھر انسان کو زبان کیوں دی جاتی۔جس نے تم کو زبان دی کیا وہ آپ نطق پر قادر نہیں جس نے تم کو بولنا سکھایا کیا وہ آپ بول نہیں سکتا جس نے اپنے فعل میں یہ قدرت دکھلائی کہ اتنا بڑا عالم بغیر مدد کسی مادہ ہیولی کے اور بغیر احتیاج معماروں اور مزدوروں اور نجاروں کے بمجرد ارادہ سب کچھ بنا ڈالا کیا اُس کی نسبت یہ کہنا جائز ہے کہ وہ بات کرنے پر قادر نہیں؟ یا قا در تو ہے مگر بباعث بخل کے اپنے کلام کے فیضان سے محروم رکھا۔کیا یہ درست ہے؟ کہ قادر مطلق کی نسبت ایسا خیال کیا جائے کہ وہ اپنی طاقتوں میں حیوانات سے بھی فروتر ہے؟ کیونکہ ایک ادنی جانور بذریعہ اپنی آواز کے دوسرے جانور کو یقینی طور پر اپنے وجود کی خبر دے سکتا ہے۔ایک مکھی بھی اپنی طنین سے دوسری مکھیوں کو اپنے آنے سے آگاہ کر سکتی ہے پر نعوذ باللہ بقول تمہارے اُس قادر مطلق میں ایک مکھی جتنی بھی قدرت نہیں۔پھر جب اُس کی نسبت تمہارا صاف بیان ہے کہ اُس کا منہ کبھی نہیں کھلا اور کبھی اس کو بولنے کی طاقت نہیں ہوئی تو تم کو تو یہ کہنا چاہئے کہ وہ ادھورا اور ناقص ہے جس کی اور صفتیں تو معلوم ہو گئیں پر صفت گویائی کا کبھی پتہ نہ ملا۔اس کی نسبت تم کس منہ سے کہہ سکتے ہو کہ اُس نے کوئی کھلا ہوا صحیفہ جس میں اُس نے بخوبی اپنا مافی الضمیر ظاہر کر دیا ہو تم کو عطا کیا ہے بلکہ تمہاری رائے کا تو خلاصہ ہی یہی ہے کہ خدائے تعالیٰ سے رہنمائی میں کچھ نہیں ہو سکا تمہیں نے اپنی قابلیت اور لیاقت سے شناخت کر لیا۔ماسوا اس کے الہامی تعلیم ان معنوں کر کے کھلی ہوئی ہے کہ اُس کا اثر عام طور پر تمام لوگوں کے دلوں پر پڑتا ہے اور ہر یک طور کی طبیعت اس سے مستفیض ہوتی ہے اور مختلف اقسام کی فطرتیں اس سے نفع اٹھاتی ہیں اور ہر رنگ کے طالب کو اس سے مدد پہنچتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بذریعہ کلام الہی بہت لوگ ہدایت یاب ہوئے ہیں اور ہوتے ہیں اور بذریعہ مجرد عقلی دلائل کے بہت ہی کم بلکہ کالعدم ، اور قیاس بھی یہی چاہتا ہے کہ ایسا ہی ہو کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ جو شخص بہ حیثیت مخبر صادق لوگوں کی نظر میں ثابت ہو کر