حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 396
۳۹۶ سوچ کر معلوم کر لیا لیکن اگر ہم اسی فطرتی دلالت پر کفایت کریں اور تصریحات کلام الہی کی طرف متوجہ نہ ہوں تو بموجب دلالت فطرتی ہمارا یہ اصول ہونا چاہئے کہ ہم جس چیز کو چاہیں بلا تفریق مواضع حلت و حرمت دیکھ لیا کریں اور جو چاہیں سُن لیں اور جو بات دل میں آوے بول اٹھیں کیونکہ قانون فطرت ہم کو اس قدر سمجھاتا ہے کہ آنکھ دیکھنے کے لئے ، کان سننے کے لئے ، زبان بولنے کے لئے مخلوق ہے اور ہم کو صریح اس دھو کے میں ڈالتا ہے کہ گویا ہم قوت بصارت اور قوت سمع اور قوت نطق کے استعمال کرنے میں بکلی آزاد اور مطلق العنان ہیں۔اب دیکھنا چاہئے کہ اگر خدا کا کلام قانونِ قدرت کے اجمال کی تصریح نہ کرے اور اس کے ابہام کو اپنے بیان واضح اور کھلی ہوئی تقریر سے دور نہ فرمادے تو کس قدر خطرات ہیں جو محض قانون فطرت کا تابعدار ہو کر اُن میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے یہ خدا ہی کا کلام ہے جس نے اپنے کھلے ہوئے اور نہایت واضح بیان سے ہم کو ہمارے ہر ایک قول اور فعل اور حرکت اور سکون میں حدود معینہ مشخصہ پر قائم کیا اور ادب انسانیت اور پاک روشنی کا طریقہ سکھلایا وہی ہے جس نے آنکھ اور کان اور زبان وغیرہ اعضاء کی محافظت کے لئے بکمال تاکید فرمایا۔قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْکى لَهُمْ لے نمبر ۱۸ یعنی مومنوں کو چاہئے کہ وہ اپنی آنکھوں اور کانوں اور ستر گاہوں کو نامحرموں سے بچاویں اور ہر یک نادیدنی اور ناشنیدنی اور ناکردنی سے پر ہیز کریں کہ یہ طریقہ اُن کی اندرونی پاکی کا موجب ہو گا یعنی ان کے دل طرح طرح کے جذبات نفسانیہ سے محفوظ رہیں گے کیونکہ اکثر نفسانی جذبات کو حرکت دینے والے اور قوائے بہیمیہ کو فتنہ میں ڈالنے والے یہی اعضاء ہیں۔اب دیکھئے کہ قرآن شریف نے نامحرموں سے بچنے کے لئے کیسی تاکید فرمائی اور کیسے کھول کر بیان کیا کہ ایمان دار لوگ اپنی آنکھوں اور کانوں اور ستر گاہوں کو ضبط میں رکھیں اور ناپاکی کے مواضع سے روکتے رہیں۔اسی طرح زبان کو صدق وصواب پر قائم رکھنے کے لئے تاکید فرمائی اور کہا۔قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ل نمبر ۲۲۔یعنی وہ بات منہ پر لاؤ جو بالکل راست اور نہایت معقولیت میں ہو اور لغو اور فضول اور جھوٹ کا اس میں سرِ مو دخل نہ ہو۔اور پھر جمیع اعضا کی وضع استقامت پر چلانے کے لئے ایک ایسا کلمہء جامعہ اور پُر تہدید بطور تنبیہہ و انذار فرمایا جو غافلوں کو متنبہ کرنے کے لئے کافی ہے۔اور کہا إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَيْكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا سے نمبر ۱۵۔یعنی کان اور آنکھ اور دل اور ایسا ہی تمام اعضا اور قو تیں جو انسان میں موجود ہیں النور : ٣١ الاحزاب : اے بنی اسرآئیل : ۳۷