حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 394
۳۹۴ بعض کا صانع قرار دیتے ہیں اور کسی دوسرے صانع کی ضرورت نہیں سمجھتے میں جانتا ہوں کہ جب نرا عقل پرست اس باب میں اپنے خیال کو آگے سے آگے دوڑائے گا تو وسوسہ مذکورہ ضرور اُس کے دل کو پکڑ لے گا کیونکہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے ذاتی نشان سے با وجو د سخت جستجو اور تکاپو کے ناکام رہ کر پھر ایسے وساوس سے بچ جائے وجہ یہ کہ انسان میں یہ فطرتی اور طبعی عادت ہے کہ جس چیز کے وجود کو قیاسی قرائن سے واجب اور ضروری سمجھے اور پھر باوجود نہایت تلاش اور پرلے درجہ کی جستجو کے خارج میں اس چیز کا کچھ پتہ نہ لگے تو اپنے قیاس کی صحت میں اس کو شک بلکہ انکار پیدا ہو جاتا ہے اور اُس قیاس کے مخالف اور منافی سینکڑوں احتمال دل میں نمودار ہو جاتے ہیں۔بارہا ہم تم ایک مخفی امر کی نسبت قیاس دوڑایا کرتے ہیں کہ یوں ہوگا یا ووں ہو گا اور جب بات کھلتی ہے تو وہ اور ہی ہوتی ہے۔انہی روز مرہ کے تجارب نے انسان کو یہ سبق دیا ہے کہ مجرد قیاسوں پر طمانیت کر کے بیٹھنا کمال نادانی ہے غرض جب تک قیاسی اٹکلوں کے ساتھ خبر واقعہ نہ ملے تب تک ساری نمائش عقل کی ایک سراب ہے اس سے زیادہ نہیں جس کا آخری نتیجہ دہریہ پن ہے سو اگر دہر یہ بننے کا ارادہ ہے تو تمہاری خوشی۔ورنہ وساوس کے تند سیلاب سے کہ جو تم سے بہتر ہزار ہا عقلمندوں کو اپنی ایک ہی موج سے تحت الثرمی کی طرف لے گیا ہے صرف اسی حالت میں تم بچ سکتے ہو کہ جب عروہ تھی الہام حقیقی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ورنہ یہ تو ہرگز نہیں ہوگا کہ تم مجرد خیالات عقلیہ میں ترقی کرتے کرتے آخر خدا کو کسی جگہ بیٹھا ہوا دیکھ لو گے بلکہ تمہارے خیالات کی ترقی کا اگر کچھ انجام ہوگا تو بالآخر یہی انجام ہوگا کہ تم خدا کو بے نشان پا کر اور زندوں کی علامات سے خالی دیکھ کر اور اُس کے سُراغ لگانے سے عاجز اور درماندہ رہ کر اپنے دہر یہ بھائیوں سے ہاتھ جا ملاؤ گے۔(براہین احمدیہ ہر چہار تصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۳۴۴ تا ۳۴۶ حاشیہ نمبر۱۱) سه ششم - معرفت کامل کا ذریعہ وہ چیز ہوسکتی ہے جو ہر وقت اور ہر زمانہ میں کھلے طور پر نظر آتی ہو۔سو یہ صحیفہ نیچر کی خاصیت ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا اور ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور یہی رہبر ہونے کے لائق ہے کیونکہ ایسی چیز کبھی رہنما نہیں ہو سکتی جس کا دروازہ اکثر اوقات بند رہتا ہو اور کسی خاص زمانہ میں کھلتا ہو۔جواب۔صحیفہ فطرت کو بمقابلہ کلام الہی کھلا ہوا خیال کرنا یہی آنکھوں کے بند ہونے کی نشانی ہے جن کی بصیرت اور بصارت میں کچھ خلل نہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ اسی کتاب کو کھلے ہوئے کہا جاتا ہے جس کی تحریر صاف نظر آتی ہو جس کے پڑھنے میں کوئی اشتباہ باقی نہ رہتا ہو پر کون ثابت کر سکتا ہے کہ مجرد