حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 389

۳۸۹ سے نکال کر ساحل تو حید اور یقین کامل تک پہنچا دیا۔وہی آخری دم کا یار اور نازک وقت کا مددگار ہے۔لیکن فقط عقل کے پردے سے جس قدر دنیا کو ضرر پہنچا ہے وہ کچھ پوشیدہ نہیں۔بھلا تم آپ ہی بتلاؤ کس نے افلاطون اور اس کے توابع کو خدا کی خالقیت سے منکر بنایا ؟ کس نے جالینوس کو روحوں کے باقی رہنے اور جزا سزا کے بارہ میں شک میں ڈال دیا ؟ کس نے تمام حکیموں کو خدا کے عالم بالجزئیات ہونے سے انکاری رکھا۔کس نے بڑے بڑے فلاسفروں سے بُت پرستی کرائی؟ کس نے مورتوں کے آگے مُرغوں اور دوسرے حیوانات کو ذبح کرایا ؟ کیا یہی عقل نہیں تھی جس کے ساتھ الہام نہ تھا؟ اور یہ شبہ پیش کرنا کہ بہت سے لوگ الہام کے تابع ہو کر بھی مشرک بن گئے۔نئے نئے خدا بنا لئے درست نہیں کیونکہ یہ خدا کے بچے الہام کا قصور نہیں بلکہ ان لوگوں کا قصور ہے جنہوں نے سچ کے ساتھ جھوٹ ملا دیا اور خدا پرستی پر ہوا پرستی کو اختیار کر لیا۔پھر بھی الہام الہی اُن کے تدارک سے غافل نہیں رہا۔اُن کو فراموش نہیں کیا بلکہ جن جن باتوں میں وہ حق سے دُور پڑ گئے دوسرے الہام نے ان باتوں کی اصلاح کی۔( براہین احمدیہ ہر چہار تص۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۶۳ ۱۶۴ حاشیہ نمبر۱) ہاں سچ بات ہے کہ عقل بھی بے سود اور بے فائدہ نہیں اور ہم نے کب کہا ہے کہ بے فائدہ ہے۔مگر اس بدیہی صداقت کے ماننے سے ہم کس طرح بھاگ سکتے ہیں کہ مجرد عقل اور قیاس کے ذریعہ سے ہمیں وہ کامل یقین کا سرمایہ حاصل نہیں ہو سکتا کہ جو عقل اور الہام کے اشتمال سے حاصل ہوتا ہے اور نہ لغزشوں اور غلطیوں اور خطاؤں اور گمراہیوں اور خود پسندیوں اور خود بینیوں سے بچ سکتے ہیں۔اور نہ ہمارے خود تراشیدہ خیالات خدا کے پر زور اور پر جلال اور پُر رعب حکم کی طرح جذبات نفسانی پر غالب آ سکتے ہیں اور نہ ہمارے طبعزاد تصورات اور خشک تخیلات اور بے اصل تو ہمات ہم کو وہ سرور اور خوشی اور تسکی اور تشفی پہنچا سکتے ہیں کہ جو محبوب حقیقی کا دلآویز کلام پہنچاتا ہے تو پھر کیا ہم ایک اکیلی عقل کے پیرو ہو کر اُن تمام نقصانوں اور زبانوں اور بدبختیوں اور بدنصیبیوں کو اپنے لئے قبول کر لیں اور ہزار ہا بلاؤں کا اپنے نفس پر دروازہ کھول دیں۔عاقل انسان کسی طرح اس مہمل بات کو باور نہیں کر سکتا کہ جس نے کامل معرفت کی پیاس لگا دی ہے اُس نے پوری معرفت کا لبالب پیالہ دینے سے دریغ کیا ہے اور جس نے آپ ہی دلوں کو اپنی طرف کھینچا ہے اس نے حقیقی عرفان کے دروازے بند کر رکھے ہیں اور خدا شناسی کے تمام مراتب کو صرف فرضی ضرورت پر خیال دوڑانے میں محدود کر دیا ہے۔کیا خدا نے انسان کو ایسا ہی بد بخت اور بے نصیب پیدا کیا ہے کہ جس کامل تسلّی کو خدا شناسی کی راہ میں اس کی روح چاہتی ہے اور دل