حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 379
سے ہوتی رہی ہے کہ جو الہام کے پابند ہوئے ہیں اور وحدانیت الہی کے اسرار دنیا میں پھیلانے والے وہی برگزیدہ لوگ ہیں کہ جو خدا کی کلام پر ایمان لائے مگر پھر عمداً اس واقعہ معلومہ کے برخلاف بیان کیا ہے۔اور تعصب یہ کہ اپنی بات کو خواہ نخواہ سر سبز کرنے کے لئے اس بد یہی صداقت کو چھپایا ہے کہ الہیات میں عقل مجرد مرتبہ یقین کامل تک نہیں پہنچا سکتی۔اور جہالت یہ کہ الہام اور عقل کو دو امر متناقض سمجھ لیا ہے کہ جو ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔اور الہام کو عقل کا مضر اور مخالف قرار دیا ہے۔حالانکہ یہ خدشہ سراسر بے اصل ہے۔ظاہر ہے کہ بچے الہام کا تابع عقلی تحقیقاتوں سے رُک نہیں سکتا بلکہ حقائق اشیاء کو معقول طور پر دیکھنے کے لئے الہام سے مدد پاتا ہے اور الہام کی حمایت اور اس کی روشنی کی برکت سے عقلی وجوہ میں کوئی دھوکا اس کو پیش نہیں آتا اور نا خطا کار عاقلوں کی طرح بے جا دلائل کے بنانے کی حاجت پڑتی ہے اور نہ کچھ تکلف کرنا پڑتا ہے بلکہ جو ٹھیک ٹھیک عنظمندی کا راہ ہے وہی اُس کو نظر آ جاتا ہے اور جو حقیقی سچائی ہے اُسی پر اُس کی نگاہ جا ٹھہرتی ہے غرض عقل کا کام یہ ہے کہ الہام کے واقعات کو قیاسی طور پر جلوہ دیتی ہے۔اور الہام کا کام یہ کہ وہ عقل کو طرح طرح کی سرگردانی سے بچاتا ہے۔اس صورت میں ظاہر ہے کہ عقل اور الہام میں کوئی جھگڑا نہیں۔اور ایک دوسرے کا نقیض اور ضد نہیں اور نہ الہام حقیقی یعنی قرآن شریف عقلی ترقیات کے لئے سنگ راہ ہے بلکہ عقل کو روشنی بخشنے والا اور اس کا بزرگ معاون اور مددگار اور مربی ہے اور جس طرح آفتاب کا قدر آنکھ ہی سے پیدا ہوتا ہے اور روزِ روشن کے فوائد اہل بصارت ہی پر ظاہر ہوتے ہیں اسی طرح خدا کی کلام کا کامل طور پر انہیں کو قدر ہوتا ہے کہ جو اہل عقل ہیں۔جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے۔وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَلِمُونَ - الجز و نمبر ۲۱ یعنی یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں پر ان کو معقول طور پر وہی سمجھتے ہیں کہ جو صاحب علم اور دانشمند ہیں۔علی ہذا القیاس جس طرح آنکھ کے نور کے فوائد صرف آفتاب ہی سے کھلتے ہیں اگر وہ نہ ہو تو پھر بینائی اور نا بینائی میں کچھ فرق باقی نہیں رہتا۔اسی طرح بصیرت عقلی کی خوبیاں بھی الہام ہی سے کھلتی ہیں۔کیونکہ وہ عقل کو ہزار باطور کی سرگردانی سے بچا کر فکر کرنے کے لئے نزدیک کا راستہ بتلا دیتا ہے اور جس راہ پر چلنے سے جلد تر مطلب حاصل ہو جائے وہ راہ دکھلا دیتا ہے اور ہر یک عاقل خوب سمجھتا ہے کہ اگر کسی باب میں فکر کرنے کے وقت اس قدر مددمل جائے کہ کسی خاص طریق پر راہ راست اختیار کرنے کے لئے علم العنكبوت : ۴۴