حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 380
۳۸۰ حاصل ہو جائے تو اس علم سے عقل کو بڑی مدد ملتی ہے اور بہت سے پراگندہ خیالوں اور ناحق کی درد سریوں سے نجات ہو جاتی ہے۔الہام کے تابعین نہ صرف اپنے خیال سے عقل کے عمدہ جو ہر کو پسند کرتے بلکہ خود الہام ہی اُن کو عقل کے پختہ کرنے کے لئے تاکید کرتا ہے۔پس اُن کو عقلی ترقیات کے لئے دوہری کشش بھینچتی ہے۔ایک تو فطرتی جوش جس سے بالطبع انسان ہر یک چیز کی ماہیت اور حقیقت کو مدلل اور عقلی طور پر جاننا چاہتا ہے دوسری الہامی تاکید میں کہ جو آتش شوق کو دوبالا کر دیتی ہیں چنانچہ جو لوگ قرآن شریف کو نظر سرسری سے بھی دیکھتے ہیں وہ بھی اس بدیہی امر سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس کلام مقدس میں فکر اور نظر کی مشق کے لئے بڑی بڑی تاکیدیں ہیں یہاں تک کہ مومنوں کی علامت ہی یہی ٹھہرا دی ہے کہ وہ ہمیشہ زمین اور آسمان کے عجائبات میں فکر کرتے رہتے ہیں اور قانون حکمتِ الہیہ کو سوچتے رہتے ہیں۔جیسا کہ ایک جگہ قرآن شریف میں فرمایا ہے۔اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَايَتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ۔الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيْمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَ يَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلًا لا یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے اختلاف میں دانشمندوں کے لئے صانع عالم کی ہستی اور قدرت پر کئی نشان ہیں۔دانشمند وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جو خدا کو بیٹھے کھڑے اور پہلو پر پڑے ہونے کی حالت میں یاد کرتے رہتے ہیں اور زمین اور آسمان اور دوسری مخلوقات کی پیدائش میں تفکر اور تدبر کرتے رہتے ہیں اور ان کے دل اور زبان پر یہ مناجات جاری رہتی ہے کہ اے ہمارے خداوند تو نے ان چیزوں میں سے کسی چیز کو عبث اور بے ہودہ طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ ہر ایک چیز تیری مخلوقات میں سے عجائبات قدرت اور حکمت سے بھری ہوئی ہے کہ جو تیری ذات بابرکات پر دلالت کرتی ہے۔ہاں دوسری الہامی کتابیں کہ جو محرف اور مبدل ہیں اُن میں نا معقول اور محال باتوں پر جمے رہنے کی تاکید پائی جاتی ہے۔جیسی عیسائیوں کی انجیل شریف۔مگر یہ الہام کا قصور نہیں یہ بھی حقیقت میں عقل ناقص کا ہی قصور ہے۔اگر باطل پرستوں کی عقل صحیح ہوتی اور حواس درست ہوتے تو وہ کا ہے کو ایسی محرف اور مبدل کتابوں کی پیروی کرتے اور کیوں وہ غیر متغیر اور کامل اور قدیم خدا پر یہ آفات اور مصیبتیں جائز رکھتے کہ گویا وہ ایک عاجز بچہ ہو کر نا پاک غذا کھاتا رہا اور نا پاک جسم سے جسم ہوا اور نا پاک راہ سے نکلا اور دارالفنا میں آیا اور طرح طرح کے دُکھ اٹھا کر آخر بڑی ال عمران : ۱۹۲،۱۹۱