حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 372

ہے۔افسوس کہ بعض پادری صاحبان نے اپنی تصنیفات میں حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت اس واقعہ کی تفسیر میں کہ جب اُن کو ایک پہاڑی پر شیطان لے گیا اس قدر جرات کی ہے کہ وہ لکھتے ہیں۔یہ کوئی خارجی بات نہ تھی جس کو دنیا دیکھتی اور جس کو یہودی بھی مشاہدہ کرتے بلکہ یہ تین مرتبہ شیطانی الہام حضرت مسیح کو ہوا تھا جس کو انہوں نے قبول نہ کیا۔مگر انجیل کی ایسی تفسیر سننے سے ہمارا تو بدن کا پتا ہے کہ مسیح اور پھر شیطانی الہام۔پاکوں کے دل میں شیطانی خیال مستحکم نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی تیرتا ہوا سرسری وسوسہ اُن کے دل کے نزدیک آ بھی جائے تو جلد تر وہ شیطانی خیال ڈور اور دفع کیا جاتا ہے اور اُن کے پاک دامن پر کوئی داغ نہیں لگتا۔قرآن شریف میں اس قسم کے وسوسہ کو جو ایک کم رنگ اور نا پختہ خیال سے مشابہ ہوتا ہے طائف کے نام سے موسوم کیا ہے اور لغت عرب میں اس کا نام طائف اور طوف اور طیف اور طیف بھی ہے۔اور اس وسوسہ کا دل سے نہایت ہی کم تعلق ہوتا ہے گویا نہیں ہوتا۔یا یوں کہو کہ جیسا کہ دُور سے کسی درخت کا سایہ بہت ہی خفیف سا پڑتا ہے ایسا ہی یہ وسوسہ ہوتا ہے۔اور ممکن ہے کہ شیطان لعین نے حضرت مسیح علیہ السلام کے دل میں اسی قسم کے خفیف وسوسہ کے ڈالنے کا ارادہ کیا ہو اور انہوں نے قوت نبوت سے اس وسوسہ کو دفع کر دیا ہو۔یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے قوت نبوت اور نور حقیقت کے ساتھ شیطانی القا کو ہرگز ہرگز نزدیک آنے نہیں دیا اور اس کے ذب اور دفع میں فورا مشغول ہو گئے اور جس طرح نور کے مقابل پر ظلمت ٹھہر نہیں سکتی۔اسی طرح شیطان اُن کے مقابل پر نہیں ٹھہر سکا۔اور بھاگ گیا۔یہی اِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سلطن کے صحیح معنے ہیں کیونکہ شیطان کا سلطان یعنی تسلط درحقیقت اُن پر ہے جو شیطانی وسوسہ اور الہام کو قبول کر لیتے ہیں۔لیکن جو لوگ ڈور سے نور کے تیر سے شیطان کو مجروح کرتے ہیں اور اُس کے مُنہ پر زجر اور توبیخ کا جوتا مارتے ہیں اور اپنے منہ سے وہ کچھ بکے جائے اس کی پیروی نہیں کرتے وہ شیطانی تسلط سے مستثنیٰ ہیں مگر چونکہ ان کو خدا تعالیٰ مَلَكُوتُ السَّموات والارض دکھانا چاہتا ہے اور شیطان مَلَكُوتُ الأَرضِ میں سے ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہ مخلوقات کے مشاہدہ کا دائرہ پورا کرنے کے لئے اس عجیب الخلقت وجود کا چہرہ دیکھ لیں اور کلام سُن لیں جس کا نام شیطان ہے۔اس سے اُن کے دامن تنزہ اور عصمت کو کوئی داغ نہیں لگتا۔حضرت مسیح سے شیطان نے اپنے قدیم طریقہ وسوسہ اندازی کے طرز پر شرارت سے ایک درخواست کی تھی سو اُن کی پاک طبیعت نے فی الفور اس کو رڈ کیا اور قبول نہ الحجر :٤٣