حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 371

نشانوں سے عجائبات روحانیہ کی اُس کو سیر کراتا ہے اور محبت ذاتیہ کی وراء الوراء کشش اُس کے دل میں بھر دیتا ہے جس کو دنیا سمجھ نہیں سکتی اس حالت میں کہا جاتا ہے کہ اس کونئی حیات مل گئی جس کے بعد موت نہیں۔پس یہ نئی حیات کامل معرفت اور کامل محبت سے ملتی ہے۔اور کامل معرفت خدا کے فوق العادت نشانوں سے حاصل ہوتی ہے اور جب انسان اس حد تک پہنچ جاتا ہے تب اُس کو خدا کا سچا مکالمہ مخاطبہ نصیب ہوتا ہے مگر یہ علامت بھی بغیر تیسرے درجے کی علامت کے قابل اطمینان نہیں کیونکہ کامل تزکیہ ایک امر پوشیدہ ہے۔اس لئے ہر ایک فضول گو ایسا دعویٰ کر سکتا ہے۔تیسری علامت ملہم صادق کی یہ ہے کہ جس کلام کو وہ خدا کی طرف منسوب کرتا ہے خدا کے متواتر افعال اس پر گواہی دیں یعنی اس قدر اس کی تائید میں نشانات ظاہر ہوں کہ عقل سلیم اس بات کو ممتنع سمجھے کہ باوجود اس قدر نشانوں کے پھر بھی وہ خدا کا کلام نہیں اور یہ علامت در حقیقت تمام علامتوں سے بڑھ کر ہے۔۔یہ ایسی کامل علامت ہے جو کوئی اس کو تو ڑ نہیں سکتا۔یہی علامت ہے جس سے خدا کے سچے نبی جھوٹوں پر غالب آتے رہے ہیں کیونکہ جو شخص دعوی کرے کہ میرے پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے پھر اس کے ساتھ صد ہانشان ظاہر ہوں اور ہزاروں قسم کی تائید اور نصرت الہی شامل حال ہو اور اُس کے دشمنوں پر خدا کے کھلے کھلے حملے ہوں پھر کس کی مجال ہے کہ ایسے شخص کو جھوٹا کہہ سکے۔لوگ جو خدا کے نزدیک ملہم اور مکلم کہلاتے ہیں اور مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف رکھتے ہیں اور دعوت خلق کے لئے مبعوث ہوتے ہیں ان کی تائید میں خدا تعالیٰ کے نشان بارش کی طرح برستے ہیں اور دنیا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور فعل الہی اپنی کثرت کے ساتھ گواہی دیتا ہے کہ جو کلام وہ پیش کرتے ہیں وہ کلام الہی ہے اگر الہام کا دعوی کرنے والے اس علامت کو مدنظر رکھتے تو وہ اس فتنہ سے بچ جاتے۔وہ ( تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۳۴ تا ۵۳۸) واضح ہو کہ شیطانی الہامات ہونا حق ہے اور بعض نا تمام سالک لوگوں کو ہوا کرتے ہیں اور حدیث النفس بھی ہوتی ہے جس کو اضغاث احلام کہتے ہیں۔اور جو شخص اس سے انکار کرے وہ قرآن شریف کی مخالفت کرتا ہے۔کیونکہ قرآن شریف کے بیان سے شیطانی الہام ثابت ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تک انسان کا تزکیہ نفس پورے اور کامل طور پر نہ ہو تب تک اس کو شیطانی الہام ہوسکتا ہے اور وہ آیت عَلَى كُلِّ آفَال آنیم کے نیچے آ سکتا ہے مگر پاکوں کو شیطانی وسوسہ پر بلا تو قف مطلع کیا جاتا الشعراء :٢٢٣