حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 370
٣٧٠ آفرین۔کیا اچھا نو روحی کے نازل ہونے کا فلسفہ بیان کیا مگر ایسے فلسفہ کے تابع ہونے والے اور اس کو پسند کرنے والے وہی لوگ ہیں جو سخت ظلمت اور کور باطنی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں ورنہ نور کے فیض کے لئے نور کا ضروری ہونا ایسی بدیہی صداقت ہے کہ کوئی ضعیف العقل بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۹۵ تا ۱۹۷ حاشیہ نمبر۱۱) یہ افسوس کا مقام ہے کہ اکثر لوگ ہر ایک بات کو جو غنودگی کی حالت میں ان کی زبان پر جاری ہوتی ہے خدا کا کلام قرار دیتے ہیں۔اور اس طرح پر آیت کریمہ لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ! کے نیچے اپنے تئیں داخل کر دیتے ہیں اور یاد رکھنا چاہئے کہ اگر کوئی کلام زبان پر جاری ہو اور قال الله قال الرسول سے مخالف بھی نہ ہو تب بھی وہ خدا کا کلام نہیں کہلا سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فعل اس پر گواہی نہ دے۔کیونکہ شیطان لعین جو انسان کا دشمن ہے جس طرح اور طریقوں سے انسان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اسی طرح اس مضل کا ایک یہ بھی طریق ہے کہ اپنے کلمات انسان کے دل میں ڈال کر اس کو یہ یقین دلاتا ہے کہ گویا وہ خدا کا کلام ہے اور آخر انجام ایسے شخص کا ہلاکت ہوتی ہے۔پس جس پر کوئی کلام نازل ہو جب تک تین علامتیں اُس میں نہ پائی جائیں اُس کو خدا کا کلام کہنا اپنے تئیں ہلاکت میں ڈالنا ہے۔اول۔وہ کلام قرآن شریف سے مخالف اور معارض نہ ہو۔مگر یہ علامت بغیر تیسری علامت کے جو ذیل میں لکھی جائے گی ناقص ہے بلکہ اگر تیسری علامت نہ ہو تو محض اس علامت سے کچھ بھی ثابت نہیں ہوسکتا۔دوم۔وہ کلام ایسے شخص پر نازل ہو جس کا تزکیہ نفس بخوبی ہو چکا ہو اور وہ اُن فانیوں کی جماعت میں داخل ہو جو بکلی جذبات نفسانیہ سے الگ ہو گئے ہیں اور اُن کے نفس پر ایک ایسی موت وارد ہوگئی ہے جس کے ذریعہ سے وہ خدا سے قریب اور شیطان سے دُور جا پڑے ہیں کیونکہ جوشخص جس کے قریب ہے اُسی کی آواز سُنتا ہے پس جو شیطان کے قریب ہے وہ شیطان کی آواز سُنتا ہے اور جو خدا سے قریب ہے وہ خدا کی آواز سُتا ہے اور انتہائی کوشش انسان کی تزکیہ نفس ہے۔اور اس پر تمام سلوک ختم ہو جاتا ہے اور دوسرے لفظوں میں یہ ایک موت ہے جو تمام اندرونی آلائشوں کو جلا دیتی ہے۔پھر جب انسان اپنا سلوک ختم کر چکتا ہے تو تصرفات الہیہ کی نوبت آتی ہے۔تب خدا اپنے اس بندہ کو جو سلب جذبات نفسانیہ سے فنا کے درجہ تک پہنچ چکا ہے معرفت اور محبت کی زندگی سے دوبارہ زندہ کرتا ہے۔اور اپنے فوق العادت بنی اسرائیل :۳۷