حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 28

۲۸ کی اصلاح کے لئے کوئی خدا کا مامور آوے۔پس وہ مسیح موعود ہے جو موجود ہے۔اور زمانہ حق رکھتا تھا کہ اس نازک وقت میں آسمانی نشانوں کے ساتھ خدا تعالی کی دنیا پر محبت پوری ہو۔سو آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور آسمان جوش میں ہے کہ اس قدر آسمانی نشان ظاہر کرے کہ اسلام کی فتح کا نقارہ ہر ایک ملک میں اور ہر ایک حصہ دنیا میں بج جائے۔اے قادر خدا! تو جلد وہ دن لا کہ جس فیصلہ کا تُو نے ارادہ کیا ہے وہ ظاہر ہو جائے اور دنیا میں تیرا جلال چمکے اور تیرے دین اور تیرے رسول کی فتح ہو۔آمین ثم آمین۔(چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفر ۹۵،۹۴) مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اخلاقی قوتوں کی تربیت کروں۔چونکہ یہ سارا سلسلہ اور ساری کارروائی مسیحی رنگ اپنے اندر رکھتی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے میرا نام مسیح موعود رکھا۔اب جبکہ میں نے اس حد تک بات کو پہونچایا ہے تو میں جانتا ہوں کہ مسیحی بھی میرے مخالف ہوں گے لیکن میں کسی کی مخالفت سے کب ڈرسکتا ہوں جب کہ خدا نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے۔اگر یہ دعویٰ میری اپنی تراشی ہوئی بات ہوتی تو مجھے ایک ادنی اسی مخالفت بھی تھکا کر بٹھا دیتی۔مگر یہ میرے اپنے اختیار کی بات نہیں ہے ہر سلیم الفطرت کو جس طرح وہ چاہے سمجھانے کے لئے میں طیار ہوں اور اُس کی تسلی کے لئے ہر جائز اور مسنون راہ میں اختیار کر سکتا ہوں۔میں سچ کہتا ہوں کہ یہی وہ زمانہ ہے جس کے لئے مسلمان اپنے اعتقاد کے موافق اور عیسائی اپنے خیال پر منتظر تھے۔یہی وہ وقت تھا جس کا وعدہ تھا۔اب آنے والا آ گیا۔خواہ کوئی قبول کرے یا نہ کرے۔خدا تعالیٰ اپنے بھیجے ہوئے لوگوں کی تائید میں زبر دست نشان ظاہر کیا کرتا ہے اور دلوں کو منوا دیتا ہے۔جو کچھ مسیح موعود کے لئے مقدر تھا وہ ہو گیا۔اب کوئی مانے نہ مانے مسیح موعود آ گیا اور وہ میں ہوں۔الحکم مورخہ ۷ ارمئی ۱۹۰۱ء صفحہم کا لم نمبر ۲ ،۳۔ملفوظات جلد اول صفحه ۴۹۹ جدید ایڈیشن ) میں نہیں چاہتا کہ ایک بت کی طرح میری پوجا کی جائے۔میں صرف اس خدا کا جلال چاہتا ہوں جس کی طرف سے میں مامور ہوں۔جو شخص مجھے بے عزتی سے دیکھتا ہے وہ اس خدا کو بے عزتی سے دیکھتا ہے جس نے مجھے مامور کیا ہے۔اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ اس خدا کو قبول کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔انسان میں اس سے زیادہ کوئی خوبی نہیں کہ تقویٰ کی راہ کو اختیار کر کے مامور من اللہ کی لڑائی سے پر ہیز کرے اور اس شخص کی جلدی سے تکذیب نہ کرے جو کہتا ہے کہ میں مامور من اللہ ہوں اور محض تجدید دین کے لئے صدی کے سر پر بھیجا گیا ہوں۔ایک متقی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ اس چودہویں صدی کے سر پر جس میں ہزاروں حملے اسلام پر ہوئے ایک ایسے مجدد کی ضرورت تھی کہ اسلام