حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 29
۲۹ کی حقیت ثابت کرے۔ہاں اس مجد د کا نام اس لئے مسیح ابن مریم رکھا گیا کہ وہ کسر صلیب کے لئے آیا ہے اور خدا اس وقت چاہتا ہے کہ جیسا کہ مسیح کو پہلے زمانہ میں یہودیوں کی صلیب سے نجات دی تھی اب عیسائیوں کی صلیب سے بھی اس کو نجات دے۔چونکہ عیسائیوں نے انسان کو خدا بنانے کے لئے بہت کچھ افترا کیا ہے اس لئے خدا کی غیرت نے چاہا کہ مسیح کے نام پر ہی ایک شخص کو مامور کر کے اس افترا کو نیست و نابود کرے۔یہ خدا کا کام ہے اور لوگوں کی نظر میں عجیب۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۳۲۱،۳۲۰) چونکہ میں مسیح موعود ہوں اور خدا نے عام طور پر میرے لئے آسمان سے نشان ظاہر کئے ہیں پس جس شخص پر میرے مسیح موعود ہونے کے بارہ میں خدا کے نزدیک اتمام حجت ہو چکا ہے اور میرے دعوئی پر وہ اطلاع پا چکا ہے۔وہ قابل مواخذہ ہو گا۔کیونکہ خدا کے فرستادوں سے دانستہ منہ پھیرنا ایسا امر نہیں ہے کہ اس پر کوئی گرفت نہ ہو۔اس گناہ کا داد خواہ میں نہیں ہوں۔بلکہ ایک ہی ہے جس کی تائید کے لئے میں بھیجا گیا۔یعنی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم۔جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ میر انہیں بلکہ اس کا نافرمان ہے جس نے میرے آنے کی پیشگوئی کی۔ایسا ہی عقیدہ میرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بارہ میں بھی یہی ہے کہ جس شخص کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچ چکی ہے اور وہ آپ کی بعثت سے مطلع ہو چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے بارہ میں اس پر اتمام حجت ہو چکا ہے وہ اگر کفر پر مر گیا تو ہمیشہ کی جہنم کا سزا وار ہوگا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۸۵،۱۸۴) اگر چہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسی رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی۔مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جما ہوا تھا اور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسی آسمان پر سے نازل ہوں گے اس لئے میں نے خدا کی وحی کو ظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تأویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھا جو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا۔لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الہی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تو ہی ہے اور ساتھ اس کے صد ہانشان ظہور میں آئے اور زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کے لئے کھڑے ہو گئے۔اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان میرے پر جبر کر کے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانہ