حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 365 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 365

۳۶۵ یہ آواز آئی اور کس نے مجھ سے کلام کی۔اور حیرت زدہ کی طرح آگے پیچھے دیکھتا ہے۔پھر سمجھ جاتا ہے کہ کسی فرشتہ نے یہ آواز دی۔اور یہ آواز خارجی اکثر اس حالت میں بطور بشارت آتی ہے کہ جب انسان کسی معاملے میں نہایت متفکر اور مغموم ہوتا ہے یا کسی بدخبری کے سننے سے کہ جو اصل میں محض دروغ تھی کوئی سخت اندیشہ اس کو دامنگیر ہو جاتا ہے۔مگر صورت دوم کی طرح اس میں مکرر دعاؤں پر اُس آواز کا صادر ہونا مشہود نہیں ہوا۔بلکہ ایک ہی دفعہ اُسی وقت کہ جب خدائے تعالیٰ چاہتا ہے کوئی فرشتہ غیب سے ناگہانی طور پر آواز کرتا ہے برخلاف صورت دوم کے اُس میں اکثر کامل دعاؤں پر حضرت احدیت کی طرف سے جواب صادر ہونا مشہور ہوا ہے اور خواہ سو مرتبہ دُعا اور سوال کرنے کا اتفاق ہو اس کا جواب سو مرتبہ ہی حضرت فیاض مطلق کی طرف سے صادر ہو سکتا ہے جیسا کہ متواتر تجر بہ خود اس خاکسار کا اس بات کا شاہد ہے۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحہ ۲۸۷، ۲۸۸ حاشیه در حاشیہ نمبرا) میں نے کئی دفعہ کشفی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کو دیکھا ہے اور اور بعض نبیوں سے بھی میں نے عین بیداری میں ملاقات کی ہے اور میں نے سید و مولی اپنے امام نبی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کئی دفعہ عین بیداری میں دیکھا ہے اور باتیں کی ہیں۔اور ایسی صاف بیداری سے دیکھا ہے جس کے ساتھ خواب یا غفلت کا نام ونشان نہ تھا اور میں نے بعض اور وفات یافتہ لوگوں سے بھی اُن کی قبر پر یا اور موقعہ پر عین بیداری میں ملاقات کی ہے اور ان سے باتیں بھی کی ہیں۔میں خوب جانتا ہوں کہ اس طرح پر عین بیداری میں گذشتہ لوگوں کی ملاقات ہو جاتی ہے اور نہ صرف ملاقات بلکہ گفتگو ہوتی ہے اور مصافحہ بھی ہوتا ہے اور اس بیداری اور روز مرہ کی بیداری میں لوازم حواس میں کچھ بھی فرق نہیں ہوتا۔دیکھا جاتا ہے کہ ہم اسی عالم میں ہیں اور یہی کان ہیں اور یہی آنکھیں ہیں اور یہی زبان ہے مگر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عالم اور ہے دنیا اس قسم کی بیداری کو نہیں جانتی کیونکہ دنیا غفلت کی زندگی میں پڑی ہے۔یہ بیداری آسمان سے ملتی ہے۔یہ ان کو دی جاتی ہے جن کو نئے حواس ملتے ہیں۔یہ ایک صحیح بات ہے اور واقعات حقہ میں سے ہے۔(مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۵ اصفحہ ۳۶، ۳۷) صاحب الہام ہونے میں استعداد اور قابلیت شرط ہے۔یہ بات نہیں ہے کہ ہر کس و ناکس خدائے تعالیٰ کا پیغمبر بن جائے اور ہر ایک پر حقانی وحی نازل ہو جایا کرے۔اس کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں