حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 364

۳۶۴ معنے لغت کی کتابیں دیکھ کر کرنے پڑتے ہیں اور بلکہ بعض دفعہ یہ الہام کسی اجنبی زبان مثلاً انگریزی یا کسی ایسی دوسری زبان میں ہوا ہے جس زبان سے ہم محض نا واقف ہیں۔(براہین احمدیہ ہر چہار حصص ، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۶۰ تا ۲۶۴ حاشیه در حاشیه نمبرا) صورت سوم الہام کی یہ ہے کہ نرم اور آہستہ طور پر انسان کے قلب پر القاء ہوتا ہے یعنی یک مرتبہ دل میں کوئی کلمہ گذر جاتا ہے جس میں وہ عجائبات یہ تمام و کمال نہیں ہوتے کہ جو دوسری صورت میں بیان کئے گئے ہیں بلکہ اس میں ربودگی اور غنودگی بھی شرط نہیں۔بسا اوقات عین بیداری میں ہو جاتا ہے اور اُس میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا غیب سے کسی نے وہ کلمہ دل میں پھونک دیا ہے یا پھینک دیا ہے۔انسان کسی قدر بیداری میں ایک استغراق اور محویت کی حالت میں ہوتا ہے اور کبھی بالکل بیدار ہوتا ہے کہ یکدفعہ دیکھتا ہے کہ ایک نو وارد کلام اُس کے سینہ میں داخل ہے یا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ معاوہ کلام دل میں داخل ہوتے ہی اپنی پُر زور روشنی ظاہر کر دیتا ہے اور انسان متنبہ ہو جاتا ہے کہ خدا کی طرف سے یہ القاء ہے۔اور صاحب ذوق کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تنفسی ہوا اندر جاتی ہے اور تمام دل وغیرہ اعضاء کو راحت پہنچاتی ہے ویسا ہی وہ الہام دل کو تسکی اور سکیت اور آرام بخشتا ہے اور طبیعت مضطرب پر اُس کی خوشی اور خنکی ظاہر ہوتی ہے۔یہ ایک باریک بھید ہے جو عوام لوگوں سے پوشیدہ ہے۔مگر عارف اور صاحب معرفت لوگ جن کو حضرت واہب حقیقی نے اسرار ربانی میں صاحب تجربہ کر دیا ہے وہ اس کو خوب سمجھتے اور جانتے ہیں اور اس صورت کا الہام بھی اس عاجز کو بار ہا ہوا ہے جس کا لکھنا بالفعل کچھ ضروری نہیں۔صورت چہارم الہام کی یہ ہے کہ رویا صادقہ میں کوئی امر خدائے تعالیٰ کی طرف سے منکشف ہو جاتا ہے یا کبھی کوئی فرشتہ انسان کی شکل میں متشکل ہو کر کوئی غیبی بات بتلاتا ہے یا کوئی تحریر کا غذ یا پتھر وغیرہ پر مشہور ہو جاتی ہے جس سے کچھ اسرار غیبیہ ظاہر ہوتے ہیں۔وَغَيْرُهَا مِنَ الصُّوَرِ - ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۲۷۳ ۲۷۴ حاشیه در حاشیہ نمبر ۱) صورت پنجم الہام کی وہ ہے جس کا انسان کے قلب سے کچھ تعلق نہیں بلکہ ایک خارج سے آواز آتی ہے اور یہ آواز ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے ایک پردہ کے پیچھے سے کوئی آدمی بولتا ہے۔مگر یہ آواز نہایت لذیذ اور شگفتہ اور کسی قدر سرعت کے ساتھ ہوتی ہے اور دل کو اس سے ایک لذت پہنچتی ہے۔انسان کسی قدر استغراق میں ہوتا ہے کہ یک دفعہ یہ آواز آ جاتی ہے اور آواز سن کر وہ حیران رہ جاتا ہے کہ کہاں سے