حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 363

۳۶۳ صورت دوم الہام کی جس کا میں باعتبار کثرت عجائبات کے کامل الہام نام رکھتا ہوں یہ ہے کہ جب خدائے تعالیٰ بندہ کو کسی امرغیبی پر بعد دعا اس بندہ کے یا خود بخود مطلع کرنا چاہتا ہے تو یک دفعہ ایک بیہوشی اور ربودگی اس پر طاری کر دیتا ہے جس سے وہ بالکل اپنی ہستی سے کھویا جاتا ہے۔اور ایسا اس بیخودی اور ر بودگی اور بے ہوشی میں ڈوبتا ہے جیسے کوئی پانی میں غوطہ مارتا ہے اور نیچے پانی کے چلا جاتا ہے۔غرض جب بندہ اس حالت ربودگی سے کہ جو غوطہ سے بہت ہی مشابہ ہے باہر آتا ہے تو اپنے اندر میں کچھ ایسا مشاہدہ کرتا ہے جیسے ایک گونج پڑی ہوئی ہوتی ہے اور جب وہ گونج کچھ فرو ہوتی ہے تو نا گہاں اُس کو اپنے اندر سے ایک موزون اور لطیف اور لذیذ کلام محسوس ہو جاتی ہے اور یہ غوطہ ربودگی کا ایک نہایت عجیب امر ہے جس کے عجائبات بیان کرنے کے لئے الفاظ کفایت نہیں کرتے۔یہی حالت ہے جس سے ایک دریا معرفت کا انسان پر کھل جاتا ہے کیونکہ جب بار بار دعا کرنے کے وقت خدا وند تعالیٰ اس حالت غوطہ اور ر بودگی کو اپنے بندہ پر وارد کر کے اس کی ہر یک دعا کا اس کو ایک لطیف اور لذیذ کلام میں جواب دیتا ہے اور ہر یک استفسار کی حالت میں وہ حقائق اس پر کھولتا ہے جن کا کھلنا انسان کی طاقت سے باہر ہے تو یہ امر اس کے لئے موجب مزید معرفت اور باعث عرفان کامل ہو جاتا ہے۔بندہ کا دُعا کرنا اور خدا کا اپنی الوہیت کی تجلی سے ہر ایک دعا کا جواب دینا یہ ایک ایسا امر ہے کہ گویا اسی عالم میں بندہ اپنے خدا کو دیکھ لیتا ہے اور دونوں عالم اس کے لئے بلا تفاوت یکساں ہو جاتے ہیں۔جب بندہ اپنی کسی حاجت کے وقت بار بار اپنے مولیٰ کریم سے کوئی عقدہ پیش آمدہ دریافت کرتا ہے اور عرض حال کے بعد حضرت خداوند کریم سے جواب پاتا ہے اسی طرح کہ جیسے ایک انسان دوسرے انسان کی بات کا جواب دیتا ہے اور جواب ایسا ہوتا ہے کہ نہایت فصیح اور لطیف الفاظ میں بلکہ کبھی کسی ایسی زبان میں ہوتا ہے کہ جس سے وہ بندہ نا آشنا محض ہے اور کبھی امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے کہ جو مخلوق کی طاقتوں سے باہر ہیں اور کبھی اس کے ذریعہ سے مواہب عظیمہ کی بشارت ملتی ہے اور منازل عالیہ کی خوشخبری سنائی جاتی ہے اور قرب حضرت باری کی مبارکبادی دی جاتی ہے۔اور کبھی دنیوی برکتوں کے بارے میں پیشگوئی ہوتی ہے تو ان کلمات لطیفہ و بلیغہ کے سُننے سے کہ جو مخلوق کی قوتوں سے نہایت بلند اور اعلیٰ ہوتے ہیں جس قدر ذوق اور معرفت حاصل ہوتی ہے اس کو وہی بندہ جانتا ہے جس کو یہ نعمت عطا ہوتی ہے۔فی الحقیقت وہ خدا کو ایسا ہی شناخت کر لیتا ہے جیسے کوئی شخص تم میں سے اپنے پکے اور پرانے دوست کو شناخت کرتا ہے۔اور یہ الہام اکثر معظمات امور میں ہوتا ہے۔کبھی اس میں ایسے الفاظ بھی ہوتے ہیں جن کے