حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 360
بسا اوقات اس کے گرنے کے ساتھ تمام بدن ہل جاتا ہے۔پھر وہ مقدمہ طے ہو کر دوسرا خیال سامنے آتا ہے۔ادھر وہ خیال نظر کے سامنے کھڑا ہوا اور اُدھر ساتھ ہی ایک ٹکڑا الہام کا اُس پر گرا۔جیسا کہ ایک تیر انداز ہر یک شکار کے نکلنے پر تیر مارتا جاتا ہے اور عین اُس وقت میں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ خیالات کا ہمارے ملکہ فطرت سے پیدا ہوتا ہے اور کلام جو اس پر گرتا ہے وہ اوپر سے نازل ہوتا ہے۔اگر چہ شعراء وغیرہ کو بھی سوچنے کے بعد القاء ہوتا ہے مگر اُس وحی کو اس سے مناسبت دینا سخت بے تمیزی ہے کیونکہ وہ القاء خوض اور فکر کا ایک نتیجہ ہوتا ہے اور ہوش و حواس کی قائمی اور انسانیت کی حد میں ہونے کی حالت میں ظہور کرتا ہے۔لیکن یہ القاء صرف اس وقت ہوتا ہے کہ جب انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا تعالیٰ کے تصرف میں آ جاتا ہے اور اپنا ہوش اور اپنا خوض کسی طور سے اس میں دخل نہیں رکھتا۔اُس وقت زبان ایسی معلوم ہوتی ہے کہ گویا یہ اپنی زبان نہیں اور ایک دوسری زبر دست طاقت اس سے کام لے رہی ہے اور یہ صورت جو میں نے بیان کی ہے اس سے صاف سمجھ میں آ جاتا ہے کہ فطرتی سلسلہ کیا چیز ہے اور آسمان سے کیا نازل ہوتا ہے؟ ( برکات الدعا۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۲ ۲۳۰ حاشیه ) مکالمہ الہیہ کے وقت میں جو انسان کو ایک قسم کی نیند اور غنودگی آتی ہے جس غنودگی کی حالت میں خدا کا کلام دل پر نازل ہوتا ہے وہ غنودگی اسباب مادیہ کی حکومت اور تاثیر سے بالکل باہر ہے اور اس جگہ طبعی کے تمام اسباب اور علل معطل اور بے کار رہ جاتے ہیں۔مثلاً جب ایک صادق انسان جس کا در حقیقت خدا تعالیٰ سے محبت اور وفا کا تعلق ہے اپنے اس جوش تعلق میں اپنے رب کریم سے کسی حاجت کے متعلق کوئی سوال کرتا ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ ابھی اسی دُعا میں مشغول ہوتا ہے کہ نا گہ ایک غنودگی اُس پر طاری ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی آنکھ کھل جاتی ہے تو کیا دیکھتا ہے کہ اس سوال کا جواب اس غنودگی کے پردہ میں نہایت فصیح بلیغ الفاظ میں اس کو مل جاتا ہے۔وہ الفاظ اپنے اندر ایک شوکت اور لذت رکھتے ہیں۔اور ان میں الوہیت کی طاقت اور قوت چمکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور شیخ آہنی کی طرح دل کے اندر ھنس جاتے ہیں۔اور وہ الہامات اکثر غیب پر مشتمل ہوتے ہیں۔اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک سوال کے بعد وہ صادق بندہ اُسی پہلے سوال کے متعلق کچھ اور عرض کرنا چاہتا ہے یا کوئی نیا سوال کرتا ہے تو پھر غنودگی اُس پر طاری ہو جاتی ہے اور ایک سیکنڈ تک یا اُس سے بھی کم تر حالت میں وہ غنودگی کھل جاتی ہے اور اس میں سے پھر ایک پاک کلام نکلتا ہے جیسے ایک میوہ کے غلاف میں سے اس کا مغز نکلتا