حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 361
۳۶۱ ہے جو نہایت لذیذ اور پُر شوکت ہوتا ہے۔اسی طرح وہ خدا جو نہایت کریم اور رحیم اور اخلاق میں سب سے بڑھا ہوا ہے ہر ایک سوال کا جواب دیتا ہے۔اور جواب دینے میں نفرت اور بیزاری ظاہر نہیں کرتا۔یہاں تک کہ اگر ساٹھ یا ستر یا سو دفعہ سوال کیا جائے تو اس کا جواب اسی صورت اور اسی پیرایہ میں دیتا ہے یعنی ہر ایک سوال کے وقت ایک خفیف سی غنودگی وارد حال ہو جاتی ہے اور کبھی ایک بھاری غنودگی اور ر بودگی طاری حال ہو جاتی ہے کہ گویا انسان ایک غشی کی حالت میں پڑ گیا ہے۔اور اکثر عظیم الشان امور میں اس قسم کی وحی ہوتی ہے اور یہ وحی کی تمام قسموں میں برتر و اعلیٰ ہے۔پس ایسے حالات میں جو سوال اور دعا کے وقت لحظہ لحظہ پر غنودگی طاری ہوتی ہے اور اس غنودگی کے پردہ میں وحی الہی نازل ہوتی ہے۔یہ طرز غنودگی اسباب مادیہ سے برتر ہے۔اور جو کچھ طبعی والوں نے خواب کے متعلق قانون قدرت سمجھ رکھا ہے۔اُس کو پاش پاش کرتی ہے۔ایسا ہی صد ہا روحانی امور ہیں جو ظاہری فلسفہ والوں کے خیالات کو نہایت ذلیل ثابت کرتے ہیں۔بسا اوقات انسان کشفی رنگ میں کئی ہزار کوس کی دُور کی چیزوں کو ایسے طور سے دیکھ لیتا ہے گویا وہ اُس کی آنکھ کے سامنے ہیں اور بسا اوقات اُن روحوں سے جو فوت ہو چکے ہیں عین بیداری میں ملاقات کرتا ہے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۱۱ ۱۱۲۰) صورت اوّل الہام کی منجملہ اُن کئی صورتوں کے جن پر خدا نے مجھ کو اطلاع دی ہے یہ ہے کہ جب خداوند تعالیٰ کوئی امرغیبی اپنے بندہ پر ظاہر کرنا چاہتا ہے تو کبھی نرمی سے اور کبھی سختی سے بعض کلمات زبان پر کچھ تھوڑی غنودگی کی حالت میں جاری کر دیتا ہے۔اور جو کلمات سختی اور گرانی سے جاری ہوتے ہیں۔وہ ایسی پر شدت اور عنیف صورت میں زبان پر وارد ہوتے ہیں جیسے گڑے یعنی اولے بیکبارگی ایک سخت زمین پر گرتے ہیں یا جیسے تیز اور پُر زور رفتار میں گھوڑے کاسم زمین پر پڑتا ہے۔اس الہام میں ایک عجیب سرعت اور شدت اور ہیبت ہوتی ہے جس سے تمام بدن متاثر ہو جاتا ہے اور زبان ایسی تیزی اور بارعب آواز میں خود بخود وڑتی جاتی ہے کہ گویا وہ اپنی زبان ہی نہیں اور ساتھ اس کے جو ایک تھوڑی سی غنودگی اور ر بودگی ہوتی ہے وہ الہام کے تمام ہونے کے بعد فی الفور دُور ہو جاتی ہے اور جب تک کلمات الہام تمام نہ ہوں تب تک انسان ایک میت کی طرح بے حس و حرکت پڑا ہوتا ہے۔یہ الہام اکثر ان صورتوں میں نازل ہوتا ہے کہ جب خداوند کریم ورحیم اپنی عین حکمت اور مصلحت سے کسی خاص دُعا کو منظور کرنا نہیں چاہتا یا کسی عرصہ تک تو قف ڈالنا چاہتا ہے یا کوئی اور خبر پہنچانا چاہتا ہے