حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 356

۳۵۶ پیغمبر اور سب پیغمبروں سے افضل اور اعلیٰ اور بہتر اور خاتم الرسل اور اپنا ہادی اور رہبر سمجھتے ہیں دوسروں کو یہ الہام یعنی یہودیوں عیسائیوں آریوں اور برہمیوں وغیرہ کو ہرگز نہیں ہوتا۔بلکہ ہمیشہ قرآن شریف کے کامل تابعین کو ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہوتا ہے اور آئندہ بھی ہوگا۔اور گو وحی رسالت بہت عدم ضرورت منقطع ہے لیکن یہ الہام کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے با اخلاص خادموں کو ہوتا ہے یہ کسی زمانہ میں منقطع نہیں ہوگا۔اور یہ الہام وحی رسالت پر ایک عظیم الشان ثبوت ہے جس کے سامنے ہر یک منکر و مخالف اسلام ذلیل اور رُسوا ہے اور چونکہ یہ مبارک الہام اپنی تمام برکت اور عزت اور عظمت اور جلال کے ساتھ صرف اُن عزت دار بندوں میں پایا جاتا ہے کہ جو امت محمدیہ میں داخل ہیں اور خدام آنحضرت والا جاہ ہیں۔دوسرے کسی فرقہ میں یہ نور کامل کہ جو تقرب اور قبولیت اور خوشنودی حضرت عزت کی بشارتیں بخشتا ہے ہر گز پایا نہیں جاتا۔اس لئے وجود اس مبارک الہام کا صرف نفس الہام کی حقانیت کو ثابت نہیں کرتا بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ دنیا میں مقبول اور مستقیم دین پر جو فرقہ ہے وہ فقط اہلِ اسلام ہی کا فرقہ ہے اور باقی سب لوگ باطل پرست اور کجرو اور مور د غضب الہی ہیں۔نادان لوگ میری اس بات کو سنتے ہی طرح طرح کی باتیں بنائیں گے اور انکار سے سر ہلائیں گے یا احمقوں اور شریروں کی طرح ٹھٹھا کریں گے مگر اُن کو سمجھنا چاہئے کہ خواہ نخواہ انکار اور ہنسی سے پیش آنا شریف النفس اور طالب الحق انسانوں کا کام نہیں بلکہ ان خبیث الطینیت اور شریر النفس لوگوں کا کام ہے جن کو خدا اور راستی سے غرض نہیں۔دنیا میں ہزار ہا چیزوں میں ایسے خواص ہیں کہ جو عقلی طور پر سمجھے نہیں جاتے صرف تجربہ سے انسان ان کو سمجھتا ہے۔اسی وجہ سے عام طور پر تمام عنظمندوں کا یہی قاعدہ ہے کہ جب تکرار تجربہ سے کسی چیز کی خاصیت ظاہر ہو جاتی ہے تو پھر اس خاصیت کے تحقق وجود میں کسی عاقل کو شک باقی نہیں رہتا۔اور آزمانے کے بعد وہی شخص شک کرتا ہے کہ جونرا گدھا ہے۔مثلاً خر بد میں جو قوت اسہال ہے یا مقناطیس میں جو قوت جذب ہے اگر چہ اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں کہ کیوں ان میں یہ قوتیں ہیں لیکن جب کہ تکرار تجر بہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ ضرور ان چیزوں میں یہ قو تیں پائی جاتی ہیں تو گوان کی کیفیت وجود پر عقلی طور پر کوئی دلیل قائم نہ ہولیکن بضرورت شہادت قاطعہ تجربہ اور امتحان کے ہر ایک عاقل کو ماننا پڑتا ہے کہ فی الحقیقت تربد میں قوت اسہال ہے اور مقناطیس میں خاصہ جذب موجود ہے اور اگر کوئی ان کے وجود سے اس بنا پر انکار کرے کہ عقلی طور پر مجھ کو کوئی دلیل نہیں ملتی تو ایسے شخص کو ہر ایک دانا پاگل اور دیوانہ جانتا ہے اور سودائی اور مسلوب العقل قرار دیتا ہے۔سواب ہم بر ہمولوگوں اور