حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 355
۳۵۵ کفر ہو گا کہ انسان ایسا خیال کرے کہ جس قدر خدا کے پاس خزائن علم و حکمت اور اسرار غیب ہیں وہ سب ہمارے ہی دل میں موجود ہیں اور ہمارے ہی دل سے جوش مارتے ہیں۔پس دوسرے لفظوں میں اس کا خلاصہ تو یہی ہوا کہ حقیقت میں ہم ہی خدا ہیں اور بجز ہمارے اور کوئی ذات قائم بنفسہ اور منصف بصفاتہ موجود نہیں جس کو خدا کہا جائے۔کیونکر اگر فی الواقعہ خدا موجود ہے اور اس کے علوم غیر متنا ہی اُسی سے خاص ہیں جن کا پیمانہ ہمارا دل نہیں ہو سکتا تو اس صورت میں کس قدر یہ قول غلط اور بے ہودہ ہے کہ خدا کے بے انتہا علوم ہمارے ہی دل میں بھرے پڑے ہیں اور خدا کے تمام خزائن حکمت ہمارے ہی قلب میں سما رہے ہیں۔گویا خدا کا علم اسی قدر ہے جس قدر ہمارے دل میں موجود ہے۔پس خیال کرو کہ اگر یہ خدائی کا دعوی نہیں تو اور کیا ہے؟ لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کا دل خدا کے جمیع کمالات کا جامع ہو جائے ؟ کیا یہ جائز ہے کہ ایک ذرہ امکان آفتاب وجوب بن جائے ؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ہم پہلے ابھی لکھ چکے ہیں کہ الوہیت کے خواص جیسے علم غیب اور احاطہ دقائق حکمیہ اور دوسرے قدرتی نشان انسان سے ہرگز ظہور پذیر نہیں ہو سکتے۔اور خدا کا کلام وہ ہے جس میں خدا کی عظمت، خدا کی قدرت، خدا کی برکت، خدا کی حکمت، خدا کی بے نظیری پائی جاوے۔سو وہ تمام شرائط قرآن شریف میں ہیں جیسے انشاء اللہ ثبوت اس کا اپنے موقعہ پر ہوگا۔پس اگر اب بھی برہمو سماج والوں کو ایسے الہام کے وجود سے انکار ہو کہ جو امور غیبیہ اور دوسرے امور قدرتیہ پر مشتمل ہو تو اُن کو اپنی آنکھ کھولنے کے لئے قرآن شریف کو بغور تمام دیکھنا چاہئے تا انہیں معلوم ہو کہ کیسے اس کلام پاک میں ایک دریا اخبار غیب کا اور نیز اُن تمام امور قدرتیہ کا کہ جو انسانی طاقتوں سے باہر ہیں بہ رہا ہے۔اور اگر بوجہ قلت بصیرت و بصارت ان فضائل قرآنیہ کو خود بخو د معلوم نہ کر سکیں تو ہماری اس کتاب کو ذرا آنکھ کھول کر پڑھیں تا وہ خزائن اُمور غیبیہ واسرار قدرتیہ کہ جو قرآن شریف میں بھرے پڑے ہیں بطور مشتے نمونہ از خروارے اُن کو معلوم ہو جائیں اور یہ بھی ان کو معلوم رہے کہ تحقق وجود الہام ربانی کے لئے کہ جو خاص خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے۔اور امور غیبیہ پر مشتمل ہوتا ہے ایک اور بھی راستہ کھلا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اُمت محمدیہ میں کہ جو بچے دین پر ثابت اور قائم ہیں ہمیشہ ایسے لوگ پیدا کرتا ہے کہ جو خدا کی طرف سے ملہم ہو کر ایسے امور غیبیہ جتلاتے ہیں جن کا بتلا نا بجز خدائے واحد لاشریک کے کسی کے اختیار میں نہیں۔اور خداوند تعالیٰ اس پاک الہام کو اُنہی ایمانداروں کو عطا کرتا ہے جو بچے دل سے قرآن شریف کو خدا کا کلام جانتے ہیں اور صدق اور اخلاص سے اس پر عمل کرتے ہیں۔اور حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا سچا اور کامل