حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 353
۳۵۳ معلوم کر سکتا۔لیکن ظاہر ہے کہ گو انسان کیسا ہی دانا ہو مگر وہ فکر کر کے کوئی امر غیب بتلا نہیں سکتا اور کوئی نشان طاقت الوہیت کا ظاہر نہیں کر سکتا اور خدا کی قدرتِ خاصہ کی کوئی علامت اُس کے کلام میں پیدا نہیں ہوتی بلکہ اگر وہ فکر کرتا کرتا مر بھی جائے تب بھی ان پوشیدہ باتوں کو معلوم نہیں کر سکتا کہ جو اس کی عقل اور نظر اور حواس سے وراء الوراء ہیں اور نہ اس کا کلام ایسا عالی ہوتا ہے کہ جس کے مقابلہ سے انسانی قوتیں عاجز ہوں۔پس اس وجہ سے عاقل کو یقین کرنے کے لئے وجوہ کافی ہیں کہ جو کچھ انسان اپنی فکر اور نظر سے بھلے یا بُرے خیالات پیدا کرتا ہے وہ خدا کا کلام نہیں بن سکتے۔اگر وہ خدا کا کلام ہوتا تو انسان پر سارے غیب کے دروازے کھل جاتے اور وہ امور بیان کر سکتا جن کا بیان کرنا الوہیت کی قوت پر موقوف ہے۔کیونکہ خدا کے کام اور کلام میں خدائی کے تجلیات کا ہونا ضروری ہے لیکن اگر کسی کے دل میں یہ شبہ گذرے کہ نیک اور بد تدبیریں اور ہر یک شر و خیر کے متعلق باریک حکمتیں اور طرح طرح کے مکر وفریب کی باتیں کہ جو فکر اور نظر کے وقت انسان کے دل میں پڑ جاتی ہیں وہ کس کی طرف سے اور کہاں سے پڑتی ہیں اور کیونکر سوچتے سوچتے ایک دفعہ مطلب کی بات سُوجھ جاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام خیالات خلق اللہ ہیں، امر اللہ نہیں اور اس جگہ خلق اور امر میں ایک لطیف فرق ہے۔خلق تو خدا کے اس فعل سے مراد ہے کہ جب خدائے تعالیٰ عالم کی کسی چیز کو بتوسط اسباب پیدا کر کے بوجہ علت العلل ہونے کے اپنی طرف اس کو منسوب کرے اور امر وہ ہے جو بلا توسط اسباب خالص خدائے تعالی کی طرف سے ہو اور کسی سبب کی اس سے آمیزش نہ ہو۔پس کلام الہی جو اس قادر مطلق کی طرف سے نازل ہوتا ہے اس کا نزول عالم امر سے ہے نہ عالم خلق ہے۔اور دوسرے جو جو خیالات انسانوں کے دلوں میں بوقت نظر وفکر اٹھا کرتے ہیں وہ بتا مہا عالم خلق سے ہیں کہ جن میں قدرت الہیہ زیر پردہ اسباب و قوی متصرف ہوتی ہے اور ان کی نسبت بسط کلام یوں ہے کہ خدا نے انسان کو اس عالم اسباب میں طرح طرح کی قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ پیدا کر کے اُن کی فطرت کو ایک ایسے قانون قدرت پر مبنی کر دیا ہے یعنی ان کی پیدائش میں کچھ اس قسم کی خاصیت رکھ دی ہے کہ جب وہ کسی بھلے یا بُرے کام میں اپنی فکر کو متحرک کریں تو اُسی کے مناسب ان کو تدبیریں سُوجھ جایا کریں۔جیسے ظاہری قوتوں اور حواسوں میں انسان کے لئے یہ قانون قدرت رکھا گیا ہے کہ جب وہ اپنی آنکھ کھولے تو کچھ نہ کچھ دیکھ لیتا ہے اور جب اپنے کانوں کو کسی آواز کی طرف لگاوے تو کچھ نہ کچھ سُن لیتا ہے۔اسی طرح جب وہ کسی نیک یا بد کام میں کوئی کامیابی کا راستہ سوچتا ہے تو کوئی نہ کوئی تدبیر سوجھ ہی جاتی ہے۔