حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 348
ا ۳۴۸ یعنی بعض نبیوں کو بعض نبیوں پر فضیلت ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ الہام محض فضل ہے اور فضیلت کے وجود میں اس کو دخل نہیں بلکہ فضیلت اس صدق اور اخلاص اور وفاداری کی قدر پر ہے جس کو خدا جانتا ہے۔ہاں الہام بھی اگر اپنی بابرکت شرائط کے ساتھ ہو تو وہ بھی ان کا ایک پھل ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر اس رنگ میں الہام ہو کہ بندہ سوال کرتا ہے اور خدا اس کا جواب دیتا ہے اسی طرح ایک ترتیب کے ساتھ سوال و جواب ہو اور الہی شوکت اور نور الہام میں پایا جاوے اور علوم غیب یا معارف صحیحہ پر مشتمل ہو تو وہ خدا کا الہام ہے۔خدا کے الہام میں یہ ضروری ہے کہ جس طرح ایک دوست دوسرے دوست سے مل کر باہم ہم کلام ہوتا ہے اسی طرح رب اور اس کے بندے میں ہم کلامی واقع ہو۔اور جب کسی امر میں سوال کرے تو اس کے جواب میں ایک کلام لذیذ فصیح خدا تعالیٰ کی طرف سے سُنے جس میں اپنے نفس اور فکر اور غور کا کچھ بھی دخل نہ ہو اور وہ مکالمہ اور مخاطبہ اس کے لئے موہبت ہو جائے تو وہ خدا کا کلام ہے۔اور ایسا بندہ خدا کی جناب میں عزیز ہے مگر یہ درجہ کہ الہام بطور موہبت ہو اور زندہ اور پاک الہام کا سلسلہ اپنے بندہ سے خدا کو حاصل ہو اور صفائی اور پاکیزگی کے ساتھ ہو یہ کسی کو نہیں ملتا بجز ان لوگوں کے جو ایمان اور اخلاص اور اعمال صالحہ میں ترقی کریں اور نیز اس چیز میں جس کو ہم بیان نہیں کر سکتے۔سچا اور پاک الہام الوہیت کے بڑے بڑے کرشمے دکھلاتا ہے۔بارہا ایک نہایت چمکدار نور پیدا ہوتا ہے اور ساتھ اس کے پُر شوکت اور ایک چمکدار الہام آتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ ملہم اس ذات سے باتیں کرتا ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے۔دنیا میں خدا کا دیدار یہی ہے کہ خدا سے باتیں کرے مگر اس ہمارے بیان میں انسان کی وہ حالت داخل نہیں ہے جو کسی کی زبان پر بے ٹھکا نہ کوئی لفظ یا فقرہ یا شعر جاری ہو اور ساتھ اس کے کوئی مکالمہ اور مخاطبہ نہ ہو بلکہ ایساش خدا کے امتحان میں گرفتار ہے کیونکہ خدا اس طریق سے بھی سست اور غافل بندوں کو آزماتا ہے کہ کبھی کوئی فقرہ یا عبارت کسی کے دل پر یا زبان پر جاری کی جاتی ہے اور وہ شخص اندھے کی طرح ہو جاتا ہے۔نہیں جانتا کہ وہ عبارت کہاں سے آئی خدا سے یا شیطان سے۔سوایسے فقرات سے استغفار لازم ہے۔لیکن اگر ایک صالح اور نیک بندہ کو بے حجاب مکالمہ الہی شروع ہو جائے اور مخاطبہ اور مکالمہ کے طور پر ایک کلام روشن۔لذیذ۔پر معنی۔پر حکمت پوری شوکت کے ساتھ اس کو سُنائی دے اور کم سے کم بارہا اس کو ایسا اتفاق ہوا ہو کہ خدا میں اور اُس میں عین بیداری میں دس مرتبہ سوال و جواب ہوا ہو۔اُس نے سوال کیا خدا نے جواب دیا پھر اُسی وقت عین بیداری میں اُس نے کوئی اور عرض کی اور خدا نے اس کا شخص