حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 349
۳۴۹ بھی جواب دیا۔پھر گزارش عاجزانہ کی خدا نے اس کا جواب بھی عطا فر مایا۔ایسا ہی دس مرتبہ تک خدا میں اور اُس میں باتیں ہوتی رہیں اور خدا نے بارہا ان مکالمات میں اس کی دُعائیں منظور کیں ہوں عمدہ عمدہ معارف پر اس کو اطلاع دی ہو۔آنے والے واقعات کی اس کو خبر دی ہو اور اپنے بر ہنہ مکالمہ سے بار بار کے سوال و جواب میں اس کو مشرف کیا ہو تو ایسے شخص کو خدا تعالیٰ کا بہت شکر کرنا چاہئے۔اور سب سے زیادہ خدا کی راہ میں فدا ہونا چاہئے۔کیونکہ خدا نے محض اپنے کرم سے اپنے تمام بندوں میں سے اُسے چن لیا اور ان صدیقوں کا اس کو وارث بنا دیا جو اُس سے پہلے گزر چکے ہیں۔یہ نعمت نہایت ہی نادر الوقوع اور خوش قسمتی کی بات ہے جس کو ملی۔اس کے بعد جو کچھ ہے وہ بیچ ہے۔اس مرتبہ اور اس مقام کے لوگ اسلام میں ہمیشہ ہوتے رہے ہیں اور ایک اسلام ہی ہے جس میں خدا بندہ سے قریب ہو کر اس سے باتیں کرتا اور اس کے اندر بولتا ہے وہ اس کے دل میں اپنا تخت بنا تا اور اس کے اندر سے اُسے آسمان کی طرف کھینچتا ہے اور اس کو وہ سب نعمتیں عطا فرماتا ہے جو پہلوں کو دی گئیں۔افسوس اندھی دنیا نہیں جانتی کہ انسان نزدیک ہوتا ہوتا کہاں تک پہنچ جاتا ہے۔وہ آپ تو قدم نہیں اُٹھاتے اور جو قدم اٹھائے یا تو اُس کو کافر ٹھہرایا جاتا ہے اور یا اُس کو معبود ٹھہرا کر خدا کی جگہ دی جاتی ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۴۳۷ تا ۴۴۱ ) رہی یہ بات کہ الہام بے اصل اور بے سود اور بے حقیقت چیز ہے جس کا ضرر اس کے نفع سے بڑھ کر ہے۔سو جاننا چاہئے کہ ایسی باتیں وہی شخص کرے گا جس نے کبھی اس شراب طہور کا مزا نہیں چکھا اور نہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ سچا ایمان اس کو حاصل ہو۔بلکہ رسم اور عادت پر خوش ہے اور کبھی نظر اس طرف اٹھا کر نہیں دیکھتا کہ مجھے خدا وند کریم پر یقین کہاں تک حاصل ہے اور میری معرفت کا درجہ کس حد تک ہے اور مجھے کیا کرنا چاہئے کہ تا میری اندرونی کمزوریاں ڈور ہوں اور میرے اخلاق اور اعمال اور ارادوں میں ایک زندہ تبدیلی پیدا ہو جائے اور مجھے وہ عشق اور محبت حاصل ہو جائے جس کی وجہ سے میں بآسانی سفر آخرت کر سکوں اور مجھ میں ایک نہایت عمدہ قابل ترقی مادہ پیدا ہو جائے۔بے شک یہ بات سب کے فہم میں آسکتی ہے کہ انسان اپنی اس غافلانہ زندگی میں جو ہر دم تحت الثریٰ کی طرف کھینچ رہی ہے اور علاوہ اس کے تعلقات زن و فرزند اور نگ و ناموس کے بوجھل اور بھاری پتھر کی طرح ہر لحظہ نیچے کی طرف لے جارہے ہیں ایک بالائی طاقت کا ضرور محتاج ہے جو اس کو سچی بینائی اور سچا کشف بخش کر خدائے تعالیٰ کے جمال با کمال کا مشتاق بنا دیوے۔سو جاننا چاہئے کہ وہ بالائی