حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 341
۳۴۱ خیالات رکھتے ہیں ورنہ جس طرح خدا تعالیٰ نے اس اُمت کو وہ دعا سکھلائی ہے جو سورۃ فاتحہ میں ہے ساتھ ہی اُس نے یہ ارادہ بھی فرمایا ہے کہ اس امت کو وہ نعمت عطا بھی کرے جو نبیوں کو دی گئی تھی یعنی مکالمہ مخاطبہ الہیہ جو سر چشمہ تمام نعمتوں کا ہے۔کیا خدا تعالیٰ نے وہ دُعا سکھلا کر صرف دھوکا ہی دیا ہے اور ایسی ناکارہ اور ذلیل اُمت میں کیا خیر ہوسکتی ہے جو بنی اسرائیل کی عورتوں سے بھی گئی گذری ہے۔ظاہر ہے کہ حضرت موسی کی ماں اور حضرت عیسی کی ماں دونوں عور تیں تھیں اور بقول ہمارے مخالفین کے نبیہ نہیں تھیں تاہم خدا تعالیٰ کے یقینی مکالمات اور مخاطبات اُن کو نصیب تھے اور اب اگر اس امت کا ایک شخص اس قدر طہارت نفس میں کامل ہو کہ ابراہیم کا دل پیدا کر لے اور اتنا خدا تعالیٰ کا تابعدار ہو جو تمام نفسانی چولہ پھینک دے اور اتنا خدا تعالیٰ کی محبت میں محو ہو کہ اپنے وجود سے فنا ہو جائے تب بھی وہ باوجود اس قدر تبدیلی کے موسی کی ماں کی طرح بھی وحی الہی نہیں پاسکتا۔کیا کوئی عظمند خدا تعالیٰ کی طرف ایسا بجل منسوب کر سکتا ہے؟ اب ہم بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔اصل بات یہ ہے کہ جب ایسے لوگ سراسر دنیا کے کیڑے ہو گئے اور اسلام کا شعار صرف پگڑی اور داڑھی اور ختنہ اور زبان کے چند اقرار اور رسمی نماز روزہ رہ گیا تو خدا تعالیٰ نے اُن کے دلوں کو مسخ کر دیا اور ہزار ہا تاریکی کے پردے آنکھوں کے آگے آگئے اور دل مر گئے اور کوئی زندہ نمونہ روحانی حیات کا اُن کے ہاتھ میں نہ رہا نا چار ان کو مکالمات الہیہ سے انکار کرنا پڑا اور یہ انکار در حقیقت اسلام سے انکار ہے۔لیکن چونکہ دل مر چکے ہیں اس لئے یہ لوگ محسوس نہیں کرتے کہ ہم کس حالت میں پڑے ہیں۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه۳۱۰ ،۳۱۱) اے مسلمانو! ہشیار ہو جاؤ کہ ایسا خیال سراسر جہالت اور نادانی ہے۔اگر اسلام ایسا ہی مُردہ مذہب ہے تو کس قوم کو تم اس کی طرف دعوت کر سکتے ہو؟ کیا اس مذہب کی لاش جاپان لے جاؤ گے یا یورپ کے سامنے پیش کرو گے اور ایسا کون بے وقوف ہے جو ایسے مردہ مذہب پر عاشق ہو جائے گا جو بمقابلہ گذشتہ مذہبوں کے ہر ایک برکت اور روحانیت سے بے نصیب ہے۔گذشتہ مذہبوں میں عورتوں کو بھی الہام ہوا جیسا کہ موسی کی ماں اور مریم کو۔مگر تم مرد ہو کر ان عورتوں کے برابر بھی نہیں بلکہ اے نادانو !! اور آنکھوں کے اندھو!!! ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ہمارے سید ومولی (اس پر ہزار ہا سلام) اپنے افاضہ کی رو سے تمام انبیاء سے سبقت لے گئے ہیں۔کیونکہ گذشتہ نبیوں کا افاضہ ایک حد تک آ کر ختم ہو گیا اور اب وہ تو میں اور وہ مذہب مردے ہیں کوئی اُن میں زندگی نہیں۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا