حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 342
۳۴۲ رُوحانی فیضان قیامت تک جاری ہے۔اسی لئے باوجود آپ کے اس فیضان کے اس امت کے لئے ضروری نہیں کہ کوئی مسیح باہر سے آوے بلکہ آپ کے سایہ میں پرورش پانا ایک ادنی انسان کو مسیح بنا سکتا ہے جیسا کہ اُس نے اس عاجز کو بنایا۔(چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۸۹) یہ دعوی ہمارا بالکل صحیح اور نہایت صفائی سے ثابت ہے کہ صراط مستقیم پر چلنے سے طالب صادق الہام الہی پاسکتا ہے کیونکہ اول تو اس پر تجر بہ ذاتی شاہد ہے ماسوائے اس کے ہر یک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کوئی معرفت الہی کا اعلیٰ رتبہ نہیں ہے کہ انسان اپنے رب کریم جل شانہ سے ہم کلام ہو جائے۔یہی درجہ ہے جس سے روحیں تسلی پاتی ہیں اور سب شکوک وشبہات دور ہو جاتے ہیں اور اسی درجۂ صافیہ پر پہنچ کر انسان اس دقیقہ معرفت کو پالیتا ہے جس کی تحصیل کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اور دراصل نجات کی کنجی اور ہستی موہوم کا عقدہ کشا یہی درجہ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے اور کھل جاتا ہے کہ خالق حقیقی کو اپنی مخلوق ضعیف سے کس قدر قرب واقع ہے۔اس درجہ تک پہنچنے کی خبر ہمیں اسی نور نے دی ہے جس کا نام قرآن ہے۔وہ نور صاف عام طور پر بشارت دیتا ہے کہ الہام کا چشمہ کبھی بند نہیں ہوسکتا۔جب کوئی مشرق کا رہنے والا یا مغرب کا باشندہ دلی صفائی سے خدائے تعالیٰ کو ڈھونڈھے گا اور اس سے پوری پوری صلح کر لے گا اور درمیان کے حجاب اٹھائے گا تو ضرور اُسے پائے گا۔اور جب واقعی اور سچے اور کامل طور پر پائے گا تو ضرور خدا اس سے ہم کلام ہوگا۔مگر دیدوں نے انسان کے اس درجہ تک پہنچنے سے انکار کیا ہے اور صرف چار رشیوں تک جو ویدوں کے مصنف ہیں (بقول آریہ سماج والوں کے ) اس درجہ کو محدود رکھا ہے۔یہ ویدوں کی ایسی ہی غلطی ہے جیسے اور بڑی بڑی غلطیوں سے وہ پر ہے۔یہ بات ظاہر ہے کہ سب بنی آدم متحد الفطرت ہیں اور جو بات ایک آدمی کے لئے ممکن ہے وہ سب کے لئے ممکن ہے اور جو قرب و معرفت ایک فرد بشر کے لئے جائز ہے وہ سب کے لئے جائز ہے کیونکہ وہ سب اصل طینت میں ایک ہی جوہر سے ہیں۔ہاں کمالات میں کمی بیشی ہے۔مگر جنس کمالات میں سرے سے جواب تو نہیں۔اور اگر کوئی ایسا شخص ہو کہ اس میں تحصیل کمالات انسانی کے ایک ذرہ بھی استعداد نہ ہو تو وہ خود انسان ہی نہیں ہو سکتا۔غرض تھوڑے بہت کا تو انسانی استعدادوں میں فرق ضرور ہوتا ہے مگر انسان ہو کر یکلخت فقدان استعداد نہیں ہوسکتا۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۴۰،۲۳۹)