حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 340
۳۴۰ خدائے تعالیٰ نے جیسے انسان کی فطرت میں مبادی امور کے کسی قدر سمجھنے کے لئے ایک عقلی قوت رکھی ہے اسی طرح انسان میں کشف اور الہام کے پانے کی بھی ایک قوت مخفی ہے۔جب عقل انسانی اپنی حد مقررہ تک چل کر آگے قدم رکھنے سے رہ جاتی ہے تو اس جگہ خدائے تعالیٰ اپنے صادق اور وفادار بندوں کو کمال عرفان اور یقین تک پہنچانے کی غرض سے الہام اور کشف سے دستگیری فرماتا ہے۔اور جو منزلیں بذریعہ عقل طے کرنے سے رہ گئی تھیں اب وہ بذریعہ کشف اور الہام طے ہو جاتی ہیں اور سالکین مرتبہ عین الیقین بلکہ حق الیقین تک پہنچ جاتے ہیں یہی سنت اللہ اور عادت اللہ ہے جس کی رہنمائی کے لئے تمام پاک نبی دنیا میں آئے ہیں اور جس پر چلنے کے بغیر کوئی شخص کچی اور کامل معرفت تک نہیں پہنچا۔مگر کم بخت خشک فلسفی کو کچھ ایسی جلدی ہوتی ہے کہ وہ یہی چاہتا ہے کہ جو کچھ کھلنا ہے وہ عقلی مرتبہ پر ہی کھل جائے اور نہیں جانتا کہ عقل انسانی اپنی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتی اور نہ طاقت سے آگے قدم رکھ سکتی ہے اور نہ اس بات کی طرف فکر دوڑاتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے انسان کو اس کے کمالات مطلوبہ تک پہنچانے کے لئے صرف جو ہر عقل ہی عطا نہیں کیا بلکہ کشف اور الہام پانے کی قوت بھی اُس کی فطرت میں رکھی ہے سو جو کچھ خدائے تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے وسائل خدا شناسی انسان کی سرشت کو عطا کئے ہیں ان وسائل میں سے صرف ایک ابتدائی اور ادنیٰ درجہ کے وسیلہ کو استعمال میں لانا اور باقی وسائل خدا شناسی سے بکلی بے خبر رہنا بڑی بھاری بدنصیبی ہے۔اور ان قوتوں کو ہمیشہ بے کار رکھ کر ضائع کر دینا اور ان سے فائدہ نہ اُٹھانا پرلے درجہ کی بے سمجھی ہے۔سو ایسا شخص سچا فلسفی ہرگز نہیں ہوسکتا کہ جو کشف اور الہام پانے کی قوت کو معطل اور بے کار چھوڑتا ہے بلکہ اس سے انکار کرتا ہے حالانکہ ہزاروں مقدسوں کی شہادت سے کشف اور الہام کا پایا جانا بپایہ ثبوت پہنچ چکا ہے اور تمام سچے عارف اسی طریق سے معرفت کا ملہ تک پہنچے ہیں۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۸۷ تا ۹۰ مقدمه ) بعض خشک ملاؤں کو یہاں تک انکار میں غلو ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ مکالماتِ الہیہ کا دروازہ ہی بند ہے اور اس بد قسمت امت کے یہ نصیب ہی نہیں کہ یہ نعمت حاصل کر کے اپنے ایمان کو کامل کرے اور پھر کشش ایمانی سے اعمال صالح کو بجالا وے۔ایسے خیالات کا یہ جواب ہے کہ اگر یہ امت در حقیقت ایسی ہی بد بخت اور اندھی اور شر الامم ہے تو خدا نے کیوں اس کا نام خیر الامم رکھا بلکہ سچ بات یہ ہے کہ وہی لوگ احمق اور نادان ہیں کہ جو ایسے