حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 337

۳۳۷ سے خبر رکھتے ہیں۔وہ عالم غیب محض ہے جس تک پہنچنے کے لئے عقلوں کو طاقت نہیں دی گئی مگر ظن محض۔اور اس عالم پر کشف اور وحی اور الہام کے ذریعہ سے اطلاع ملتی ہے نہ اور کسی ذریعہ سے۔اور جیسی عادت اللہ بدیہی طور پر ثابت اور متحقق ہے کہ اُس نے ان دو پہلے عالموں کے دریافت کرنے کے لئے جن کا اوپر ذکر ہو چکا ہے انسان کو طرح طرح کے حواس و قو تیں عنایت کی ہیں اسی طرح اس تیسرے عالم کے دریافت کرنے کے لئے بھی اس فیاض مطلق نے انسان کے لئے ایک ذریعہ رکھا ہے اور وہ ذریعہ وحی اور الہام اور کشف ہے جو کسی زمانہ میں بکلی بند اور موقوف نہیں رہ سکتا بلکہ اس کے شرائط بجا لانے والے ہمیشہ اس کو پاتے رہے ہیں اور ہمیشہ پاتے رہیں گے۔چونکہ انسان ترقیات غیر محدودہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور خدا تعالیٰ بھی عیب بخل و امساک سے بکلی پاک ہے پس اس قوی دلیل سے ایسا خیال بڑا نا پاک خیال ہے جو یہ سمجھا جائے جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے دل میں تینوں عالموں کے اسرار معلوم کرنے کا شوق ڈال کر پھر تیسرے عالم کے وسائل وصول سے بکلی اس کو محروم رکھا ہے۔پس یہ وہ دلیل ہے جس سے دانشمند لوگ دائمی طور پر الہام اور کشف کی ضرورت کو یقین کر لیتے ہیں۔اور آریوں کی طرح چار رشیوں پر الہام کو ختم نہیں کرتے جن کی مانند کوئی پانچواں اس کمال تک پہنچنا اُن کی نظر عجیب میں ممکن ہی نہیں بلکہ عقلمند لوگ خدا تعالیٰ کے فیاض مطلق ہونے پر ایمان لا کر الہامی دروازوں کو ہمیشہ کھلا سمجھتے ہیں۔اور کسی ولایت اور ملک سے اس کو مخصوص نہیں رکھتے۔ہاں اس صراط مستقیم سے مخصوص رکھتے ہیں جس پر ٹھیک ٹھیک چلنے سے یہ برکات حاصل ہوتے ہیں کیونکہ ہر یک چیز کے حصول کے لئے یہ لازم پڑا ہوا ہے کہ انہی قواعد اور طریقوں پر عمل کیا جائے جن کی پابندی سے وہ چیز مل سکتی ہے۔غرض عقلمند لوگ عالم کشف کے عجائبات سے انکار نہیں کرتے بلکہ انہیں ماننا پڑتا ہے کہ جس جَوادِ مُطْلَق نے عالم اول کے ادنی ادنیٰ امور کے دریافت کرنے کے لئے انسان کو حواس اور طاقتیں عنایت کی ہیں وہ تیسرے عالم کے معظم اور عالیشان امور کے دریافت سے جس سے حقیقی اور کامل تعلق خدا تعالیٰ سے پیدا ہوتا ہے اور کچی اور یقینی معرفت حاصل ہو کر اسی دنیا میں انوار نجات نمایاں ہو جاتے ہیں کیوں انسان کو محروم رکھتا بے شک یہ طریق بھی دوسرے دونوں طریقوں کی طرح کھلا ہوا ہے اور صادق لوگ بڑے زور سے اس پر قدم مارتے ہیں اور اس کو پاتے ہیں۔اور اس کے ثمرات حاصل کرتے ہیں۔عجائبات اس عالم ثالث کے بے انتہاء ہیں۔اور اس کے مقابل پر دوسرے عالم ایسے ہیں جیسے آفتاب کے مقابل پر ایک دانہ خشخاش۔اس بات پر زور لگانا کہ اس عالم کے اسرار عقلی طاقت سے بکلّی منکشف