حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 309

۳۰۹ پھول اس کے حکم سے پیدا کرتی ہے تو کیا یہ سب کچھ خدا کی بادشاہت کے بغیر ہو رہا ہے بلکہ آسمانی اجرام تو ایک ہی صورت اور منوال پر چلے آتے ہیں۔اور ان میں تغییر و تبدیل جس سے ایک مغیر مبدل کا پتہ ملتا ہو کچھ محسوس نہیں ہوتی مگر زمین ہزار ہا تغیرات اور انقلابات اور متبدلات کا نشانہ ہورہی ہے۔ہر روز کروڑ ہا انسان دنیا سے گذرتے ہیں اور کروڑہا پیدا ہوتے ہیں اور ہر ایک پہلو اور ہر ایک طور سے ایک مقتدر صانع کا تصرف محسوس ہو رہا ہے تو کیا ابھی تک خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں اور انجیل نے اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کی کہ کیوں ابھی تک خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں آئی۔البتہ مسیح کا باغ میں اپنے بچ جانے کے لئے ساری رات دعا کرنا اور دُعا قبول بھی ہو جانا جیسا کہ عبرانیاں ۵ آیت ۷ میں لکھا ہے۔مگر پھر بھی خدا کا اس کے چھڑانے پر قادر نہ ہونا یہ بزعم عیسائیاں ایک دلیل ہو سکتی ہے کہ اس زمانہ میں خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں تھی۔مگر ہم نے اس سے بڑھ کر ابتلا دیکھے ہیں اور اُن سے نجات پائی ہے ہم کیونکر خدا کی بادشاہت کا انکار کر سکتے ہیں۔کیا وہ خون کا مقدمہ جو میرے قتل کرنے کے لئے مارٹن کلارک کی طرف سے عدالت کپتان ڈگلس میں پیش ہوا تھا۔وہ اوس مقدمہ سے کچھ خفیف تھا جو محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے نہ کسی خون کے اتہام سے یہودیوں کی طرف سے عدالت پیلاطوس میں دائر کیا گیا تھا مگر چونکہ خدا زمین کا بھی بادشاہ ہے جیسا کہ آسمان کا اس لئے اس نے اس مقدمہ کی پہلے سے مجھے خبر دیدی کہ یہ ابتلا آنے والا ہے اور پھر خبر دے دی کہ میں تم کو بری کروں گا اور وہ خبر صد ہا انسانوں کو قبل از وقت سنائی گئی۔اور آخر مجھے بری کیا گیا۔پس یہ خدا کی بادشاہت تھی جس نے اس مقدمہ سے مجھے بچالیا جو مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے اتفاق سے مجھ پر کھڑا کیا گیا تھا۔ایسا ہی نہ ایک دفعہ بلکہ بیسیوں دفعہ میں نے خدا کی بادشاہت کو زمین پر دیکھا اور مجھے خدا کی اس آیت پر ایمان لانا پڑا کہ لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ے یعنی زمین پر بھی خدا کی بادشاہت ہے اور آسمان پر بھی اور پھر اس آیت پر ایمان لانا پڑا کہ إِنَّمَا أَمْرُةَ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ لا یعنی تمام زمین و آسمان اس کی اطاعت کر رہے ہیں۔جب ایک کام کو چاہتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا تو فی الفور وہ کام ہو جاتا ہے اور پھر فرماتا ہے وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ سے یعنی خدا اپنے ارادہ پر غالب ہے مگر اکثر لوگ خدا کے قہر اور جبروت سے بے خبر ہیں۔ا الحديد :٣ ياس : ۸۳ يوسف : ٢٢