حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 310 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 310

۳۱۰ غرض یہ تو انجیل کی دُعا ہے جو انسانوں کو خدا کی رحمت سے نومید کرتی ہے اور اس کی ربوبیت اور افاضہ اور جزا سزا سے عیسائیوں کو بے باک کرتی ہے اور اس کو زمین پر مدد دینے کے قابل نہیں جانتی جب تک اس کی بادشاہت زمین پر نہ آوے لیکن اس کے مقابل پر جودُعا خدا نے مسلمانوں کو قرآن میں سکھلائی ہے وہ اس بات کو پیش کرتی ہے کہ زمین پر خُدا مسلوب السلطنت لوگوں کی طرح بے کار نہیں ہے بلکہ اس کا سلسلہ ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور مجازات زمین پر جاری ہے اور وہ اپنے عابدوں کو مدد دینے کی طاقت رکھتا ہے اور مجرموں کو اپنے غضب سے ہلاک کر سکتا ہے۔وہ دعا یہ ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔إيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ - اِهْدِنَا الصِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ - اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ امين ترجمہ: وہ خدا ہی ہے جو تمام تعریفوں کا مستحق ہے یعنی اس کی بادشاہت میں کوئی نقص نہیں اور اس کی خوبیوں کے لئے کوئی ایسی حالت منتظرہ باقی نہیں جو آج نہیں مگر کل حاصل ہوگی اور اس کی بادشاہت کے لوازم میں سے کوئی چیز بے کار نہیں تمام عالموں کی پرورش کر رہا ہے۔بغیر عوض اعمال کے رحمت کرتا ہے اور نیز بعوض اعمال رحمت کرتا ہے۔جزا سزا وقت مقررہ پر دیتا ہے۔اُسی کی ہم عبادت کرتے ہیں اور اسی سے ہم مدد چاہتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ ہمیں تمام نعمتوں کی راہیں دکھلا اور غضب کی راہوں اور ضلالت کی راہوں سے دُور رکھ۔بیہ دعا جو سورۃ فاتحہ میں ہے انجیل کی دُعا سے بالکل نقیض ہے کیونکہ انجیل میں زمین پر خدا کی موجودہ بادشاہت ہونے سے انکار کیا گیا ہے۔پس انجیل کے رو سے نہ زمین پر خدا کی ربوبیت کچھ کام کر رہی ہے نہ رحمانیت نہ رحیمیت نہ قدرت جزا سزا کیونکہ ابھی زمین پر خدا کی بادشاہت نہیں آئی۔مگر سورۃ فاتحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر خدا کی بادشاہت موجود ہے۔اسی لئے سورۃ فاتحہ میں تمام لوازم بادشاہت کے بیان کئے گئے ہیں۔ظاہر ہے کہ بادشاہ میں یہ صفات ہونی چاہئیں کہ وہ لوگوں کی پرورش پر قدرت رکھتا ہو۔سوسورۃ فاتحہ میں ربّ الـعـالـمـيـن کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کیا گیا ہے۔پھر دوسری صفت بادشاہ کی یہ چاہئے کہ جو کچھ اس کی رعایا کو اپنی آبادی کے لئے ضروری سامان کی حاجت ہے وہ بغیر عوض ان کی خدمات کے خود رحم خسروانہ سے بجا لاوے سو الرحمن کے لفظ سے اس صفت کو ثابت کر دیا ہے۔تیسری صفت بادشاہ میں یہ چاہئے کہ جن کاموں کو اپنی کوشش سے رعایا انجام تک نہ الفاتحة :۲ تا ۷