حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 307

۳۰۷۔ان پر وارد نہیں ہو سکتا لیکن انسانی فطرت کو قبول ، عدم قبول کا اختیار دیا گیا ہے اور چونکہ یہ اختیار اوپر سے دیا گیا ہے اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ فاسق انسان کے وجود سے خدا کی بادشاہت زمین سے جاتی رہی بلکہ ہر رنگ میں خدا کی ہی بادشاہت ہے۔ہاں صرف قانون دو ہیں ایک آسمانی فرشتوں کے لئے قضا و قدر کا قانون ہے کہ وہ بدی کر ہی نہیں سکتے اور ایک زمین پر انسانوں کے لئے خدا کے قضا و قدر کے متعلق ہے اور وہ یہ کہ آسمان سے اون کو بدی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے مگر جب خدا سے طاقت طلب کریں یعنی استغفار کریں تو رُوح القدس کی تائید سے ان کی کمزوری دور ہو سکتی ہے اور وہ گناہ کے ارتکاب سے بیچ سکتے ہیں جیسا کہ خدا کے نبی اور رسول بچتے ہیں اور اگر ایسے لوگ ہیں کہ گنہگار ہو چکے ہیں تو استغفار ان کو یہ فائدہ پہنچاتا ہے کہ گناہ کے نتائج سے یعنی عذاب سے بچائے جاتے ہیں کیونکہ نور کے آنے سے ظلمت باقی نہیں رہ سکتی۔اور جرائم پیشہ جو استغفار نہیں کرتے یعنی خدا سے طاقت نہیں مانگتے وہ اپنے جرائم کی سزا پاتے رہتے ہیں۔دیکھو آج کل طاعون بھی بطور سزا کے زمین پر اتری ہے اور خدا کے سرکش اوس سے ہلاک ہوتے جاتے ہیں پھر کیونکر کہا جائے کہ خدا کی بادشاہت زمین پر نہیں یہ خیال مت کرو کہ اگر زمین پر خدا کی بادشاہت ہے تو پھر لوگوں سے جرائم کیوں ظہور میں آتے ہیں کیونکہ جرائم بھی خدا کے قانون قضاء و قدر کے نیچے ہیں سو اگر چہ وہ لوگ قانون شریعت سے باہر ہو جاتے ہیں مگر قانون تکوین یعنی قضاء و قدر سے وہ باہر نہیں ہو سکتے۔پس کیونکر کہا جائے کہ جرائم پیشہ لوگ الہی سلطنت کا جوا اپنی گردن پر نہیں رکھتے۔اگر خدا کا قانون ابھی سخت ہو جائے اور ہر یک زنا کرنے والے پر بجلی پڑے اور ہر یک چور کو یہ بیماری پیدا ہو کہ ہاتھ گل سڑ کر گر جائیں اور ہر ایک سرکش خدا کا منکر اس کے دین کا منکر طاعون سے مرے تو ایک ہفتہ گذرنے سے پہلے ہی تمام دنیا راستبازی اور نیک بختی کی چادر پہن سکتی ہے۔پس خدا کی زمین پر بادشاہت تو ہے لیکن آسمانی قانون کی نرمی نے اس قدر آزادی دے رکھی ہے کہ جرائم پیشہ جلدی نہیں پکڑے جاتے ہاں سزائیں بھی ملتی رہتی ہیں۔زلزلے آتے ہیں۔بجلیاں پڑتی ہیں۔کوہ آتش فشاں آتش بازی کی طرح مشتعل ہو کر ہزاروں جانوں کا نقصان کرتے جاتے ہیں۔جہاز غرق ہوتے ہیں۔ریل گاڑیوں کے ذریعہ سے صدہا جائیں تلف ہوتی ہیں۔طوفان آتے ہیں۔مکانات گرتے ہیں۔سانپ کاٹتے ہیں۔درندے پھاڑتے ہیں۔وبائیں پڑتی ہیں۔اور فنا کرنے کا نہ ایک دروازہ بلکہ ہزار ہا دروازے کھلے ہیں جو مجرمین کی پاداش کے لئے خدا کے قانون قدرت نے مقرر کر رکھے ہیں۔پھر کیونکر کہا جائے کہ خدا کی زمین پر بادشاہت نہیں۔سچ یہی ہے کہ بادشاہت تو ہے۔