حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 306

۳۰۶ کی فرمانبرداری میں مستغرق ہے۔پہاڑوں اور زمین کا ذرہ ذرہ اور دریاؤں اور سمندروں کا قطرہ قطرہ اور درختوں اور بوٹیوں کا پات پات اور ہر ایک جز اُن کا اور انسان اور حیوانات کے کل ذرات خدا کو پہچانتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی تحمید و تقدیس میں مشغول ہیں اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔يُسبِّحُ لِلهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ کے یعنی جیسے آسمان پر ہر یک چیز خدا کی تسبیح و تقدیس کر رہی ہے ویسے زمین پر بھی ہر ایک چیز اس کی تسبیح و تقدیس کرتی ہے۔پس کیا زمین پر خدا کی تحمید و تقدیس نہیں ہوتی ؟ ایسا کلمہ ایک کامل عارف کے منہ سے نہیں نکل سکتا بلکہ زمین کی چیزوں میں سے کوئی چیز تو شریعت کے احکام کی اطاعت کر رہی ہے اور کوئی چیز قضا و قدر کے احکام کے تابع ہے اور کوئی دونوں کی اطاعت میں کمر بستہ ہے۔کیا بادل، کیا ہوا، کیا آگ، کیا زمین سب خدا کی اطاعت اور تقدیس میں محمد ہیں۔اگر کوئی انسان الہی شریعت کے احکام کا سرکش ہے تو الہی قضا وقدر کے حکم کا تابع ہے۔ان دونوں حکومتوں سے باہر کوئی نہیں۔کسی نہ کسی آسمانی حکومت کا جوا ہر ایک کی گردن پر ہے۔ہاں البتہ انسانی دلوں کی اصلاح اور فساد کے لحاظ سے غفلت اور ذکر الہی نوبت به نوبت زمین پر اپنا غلبہ کرتے ہیں مگر بغیر خدا کی حکمت اور مصلحت کے یہ مد و جز رخود بخود نہیں۔خدا نے چاہا کہ زمین میں ایسا ہو سو ہو گیا۔سو ہدایت اور ضلالت کا دور بھی دن رات کے دور کی طرح خدا کے قانون اور اذن کے موافق چل رہا ہے نہ خود بخود باوجود اس کے ہر ایک چیز اس کی آواز سنتی ہے اور اس کی پا کی یاد کرتی ہے مگر انجیل کہتی ہے کہ زمین خدا کی تقدیس سے خالی ہے۔اس کا سبب اس انجیلی دُعا کے اگلے فقرہ میں بطور اشارہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ابھی اوس میں خدا کی بادشاہت نہیں آئی۔اس لئے حکومت نہ ہونے کی وجہ سے نہ کسی اور وجہ سے خدا کی مرضی ایسے طور سے زمین پر نافذ نہیں ہوسکی جیسا کہ آسمان پر نافذ ہے مگر قرآن کی تعلیم سراسر اس کے برخلاف ہے وہ تو صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ کوئی چور، خونی، زانی ، کافر ، فاسق ، سرکش، جرائم پیشہ کسی قسم کی بدی زمین پر نہیں کر سکتا جب تک کہ آسمان پر سے اس کو اختیار نہ دیا جائے۔پس کیونکر کہا جائے کہ آسمانی بادشاہت زمین پر نہیں۔کیا کوئی مخالف قبضہ زمین پر خدا کے احکام کے جاری ہونے سے مزاحم ہے۔سبحان اللہ ! ایسا ہرگز نہیں بلکہ خدا نے خود آسمان پر فرشتوں کے لئے جدا قانون بنایا اور زمین پر انسانوں کے لئے جدا اور خدا نے اپنی آسمانی بادشاہت میں فرشتوں کو کوئی اختیار نہیں دیا بلکہ اون کی فطرت میں ہی اطاعت کا مادہ رکھ دیا ہے وہ مخالفت کر ہی نہیں سکتے اور سہوا اور نسیان الجمعة : ٢