حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 305
۳۰۵ میں بھی ذکر ہے۔صرف یہ فرق ہے کہ ویدوں نے خدا کے غضب کو اس حد تک پہنچا دیا کہ یہ تجویز کیا کہ وہ شدت غضب کی وجہ سے انسانوں کو گنہ کی وجہ سے کیڑے مکوڑے بنا دیتا ہے مگر قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کے غضب کو اس حد تک نہیں پہنچایا بلکہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ خدا با وجود سزا دینے کے پھر بھی انسان کو انسان ہی رکھتا ہے کسی اور جون میں نہیں ڈالتا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن شریف کی رو سے خدا تعالیٰ کی محبت اور رحمت اس کے غضب سے بڑھ کر ہے۔اور وید کے رو سے گنہگاروں کی سزا نا پیدا کنار ہے اور پر میشر میں غضب ہی غضب ہے رحمت کا نام ونشان نہیں مگر قرآن شریف سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ انجام کار دوزخیوں پر ایسا زمانہ آوے گا کہ خدا سب پر رحم فرمائے گا۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۶ تا ۵۰) انجیل میں ہے کہ تم اس طرح دعا کرو کہ اے ہمارے باپ کہ جو آسمان پر ہے تیرے نام کی تقدیس ہو۔تیری بادشاہت آوے تیری مرضی جیسی آسمان پر ہے زمین پر آوے۔ہماری روزانہ روٹی آج ہمیں بخش اور جس طرح ہم اپنے قرضداروں کو بخشتے ہیں تو اپنے قرض کو ہمیں بخش دے اور ہمیں آزمائش میں نہ ڈال بلکہ برائی سے بچا کیونکہ بادشاہت اور قدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں۔مگر قرآن کہتا ہے کہ یہ نہیں کہ زمین نقدیس سے خالی ہے بلکہ زمین پر بھی خدا کی تقدیس ہو رہی ہے نہ صرف آسمان پر جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا في الْأَرْضِ کے یعنی ذرہ ذرہ زمین کا اور آسمان کا خدا کی تحمید اور نقدیس کر رہا ہے اور جو کچھ اُن میں ہے وہ تحمید اور تقدیس میں مشغول ہے، پہاڑ اوس کے ذکر میں مشغول ہیں ، دریا اوس کے ذکر میں مشغول ہیں۔درخت اس کے ذکر میں مشغول ہیں۔اور بہت سے راستباز اس کے ذکر میں مشغول ہیں اور جو شخص دل اور زبان کے ساتھ اس کے ذکر میں مشغول نہیں اور خدا کے آگے فروتنی نہیں کرتا اس سے طرح طرح کے شکنجوں اور عذابوں سے قضا و قدر الہی فروتنی کرا رہی ہے اور جو کچھ فرشتوں کے بارے میں خدا کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ نہایت درجہ اطاعت کر رہے ہیں یہی تعریف زمین کے پات پات اور ذرہ ذرہ کی نسبت قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہر ایک چیز اوس کی اطاعت کر رہی ہے۔ایک پتہ بھی بجز اس کے امر کے گر نہیں سکتا اور بجز اس کے حکم کے نہ کوئی دوا شفا دے سکتی ہے اور نہ کوئی غذا موافق ہو سکتی ہے اور ہر ایک چیز غایت درجہ کے تذلل اور عبودیت سے خدا کے آستانہ پر گری ہوئی ہے اور اس بنی اسرائیل : ۴۵ الجمعة :٢