حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 297
۲۹۷ قیاسی معرفت تھی جو دل کو اطمینان اور سکینت نہیں بخش سکتی اور نہ شکوک کو بلکلی دل پر سے اٹھا سکتی ہے اور نہ یہ ایسا پیالہ ہے جس سے وہ پیاس معرفت تامہ کی بجھ سکے جو انسان کی فطرت کو لگائی گئی ہے۔بلکہ ایسی معرفت نا قصہ نہایت پُر خطر ہوتی ہے۔کیونکہ بہت شور ڈالنے کے بعد پھر آخر بیچ اور نتیجہ ندارد ہے۔غرض جب تک خود خدا تعالیٰ اپنے موجود ہونے کو اپنے کلام سے ظاہر نہ کرے جیسا کہ اُس نے اپنے کام سے ظاہر کیا تب تک صرف کام کا ملاحظہ تسلی بخش نہیں ہے۔مثلاً اگر ہم ایک ایسی کوٹھڑی کو دیکھیں جس میں یہ بات عجیب ہو کہ اندر سے کنڈیاں لگائی گئی ہیں تو اس فعل سے ہم ضرور اوّل یہ خیال کریں گے کہ کوئی انسان اندر ہے جس نے اندر سے زنجیر کو لگایا ہے۔کیونکہ باہر سے اندر کی زنجیروں کو لگانا غیر ممکن ہے۔لیکن جب ایک مدت تک بلکہ برسوں تک با وجود بار بار آواز دینے کے اس انسان کی طرف سے کوئی آواز نہ آوے تو آخر یہ رائے ہماری کہ کوئی اندر ہے بدل جائے گی اور یہ خیال کریں گے کہ اندر کوئی نہیں بلکہ کسی حکمت عملی سے اندر کی کنڈیاں لگائی گئی ہیں۔یہی حال ان فلاسفروں کا ہے جنہوں نے صرف فعل کے مشاہدہ پر اپنی معرفت کو ختم کر دیا ہے یا بڑی غلطی ہے جو خدا کو ایک مُردہ کی طرح سمجھا جائے جس کو قبر سے نکالنا صرف انسان کا کام ہے۔اگر خدا ایسا ہے جو صرف انسانی کوشش نے اُس کا پتہ لگایا ہے تو ایسے خدا کی نسبت ہماری سب اُمیدیں عبث ہیں۔بلکہ خدا تو وہی ہے جو ہمیشہ سے اور قدیم سے آپ انا الموجُود کہہ کر لوگوں کو اپنی طرف بلاتا رہا ہے۔یہ بڑی گستاخی ہوگی کہ ہم ایسا خیال کریں کہ اس کی معرفت میں انسان کا احسان اس پر ہے۔اور اگر فلاسفر نہ ہوتے تو گویا وہ گم کا گم ہی رہتا۔اور یہ کہنا کہ خدا کیونکر بول سکتا ہے۔کیا اس کی زبان ہے؟ یہ بھی ایک بڑی بے با کی ہے۔کیا اُس نے جسمانی ہاتھوں کے بغیر تمام آسمانی اجرام اور زمین کو نہیں بنایا۔کیا وہ جسمانی آنکھوں کے بغیر تمام دنیا کو نہیں دیکھتا۔کیا وہ جسمانی کانوں کے بغیر ہماری آوازیں نہیں سنتا۔پس کیا یہ ضروری نہ تھا کہ اسی طرح وہ کلام بھی کرے۔یہ بات بھی ہرگز صحیح نہیں ہے کہ خدا کا کلام کرنا آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے۔ہم اس کے کلام اور مخاطبات پر کسی زمانہ تک مہر نہیں لگاتے۔بے شک وہ اب بھی ڈھونڈ نے والوں کو الہامی چشمہ سے مالا مال کرنے کو طیار ہے جیسا کہ پہلے تھا۔اور اب بھی اس کے فیضان کے ایسے دروازے کھلے ہیں جیسے کہ پہلے تھے۔ہاں ضرورتوں کے ختم ہونے پر شریعتیں اور حدود ختم ہو گئیں اور تمام رسالتیں اور نبوتیں اپنے آخری نقطہ پر آکر جو ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا کمال کو پہونچ گئیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۶۳ تا ۳۶۷)