حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 290

۲۹۰ بدذاتی ہے جو خدا سے اُس کے کاروبار کے متعلق جو اس بندہ کی نسبت خدا تعالیٰ کرتا ہے انصاف کا مطالبہ کرے۔جبکہ انسانی فطرت کا سب تار و پود خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور تمام قومی روحانی جسمانی اُسی کی عطا کردہ ہیں اور اُسی کی توفیق اور تائید سے ہر ایک اچھا عمل ظہور میں آ سکتا ہے تو اپنے اعمال پر بھروسہ کر کے اُس سے انصاف کا مطالبہ کرنا سخت بے ایمانی اور جہالت ہے۔اور ایسی تعلیم کو ہم وڈیا کی تعلیم نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ تعلیم بچے گیان سے بالکل محروم اور سراسر حماقت سے بھری ہوئی تعلیم ہے سو ہمیں خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں جو قرآن شریف ہے یہی سکھایا ہے کہ بندہ کے مقابل پر خدا کا نام منصف رکھنا نہ صرف گناہ بلکہ کفر صریح ہے۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۲ تا ۳۴) یہ وسوسہ کہ عدل اور رحم دونوں خدا تعالیٰ کی ذات میں جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ عدل کا تقاضا ہے کہ سزا دی جائے اور رحم کا تقاضا ہے کہ در گذر کی جائے یہ ایک ایسا دھوکا ہے کہ جس میں قلت تدبر سے کو نہ اندیش عیسائی گرفتار ہیں۔وہ غور نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ کا عدل بھی تو ایک رحم ہے۔وجہ یہ کہ وہ سراسر انسانوں کے فائدہ کے لئے ہے۔مثلاً اگر خدا تعالیٰ ایک خونی کی نسبت باعتبار اپنے عدل کے حکم فرماتا ہے کہ وہ مارا جائے۔تو اس سے اس کی الوہیت کو کچھ فائدہ نہیں بلکہ اس لئے چاہتا ہے کہ تا نوع انسان ایک دوسرے کو مار کرنا بود نہ ہو جا ئیں سو یہ نوع انسان کے حق میں رحم ہے اور یہ تمام حقوق عباد خدا تعالیٰ نے اسی لئے قائم کئے ہیں کہ تا امن قائم رہے اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر ظلم کر کے دنیا میں فساد نہ ڈالیں۔سو وہ تمام حقوق اور سزائیں جو مال اور جان اور آبرو کے متعلق ہیں در حقیقت نوع انسان کے لئے ایک رحم ہے۔۔پس عدل اور رحم میں کوئی جھگڑا نہیں گویا وہ دو نہریں ہیں جو اپنی اپنی جگہ پر چل رہی ہیں۔ایک نہر دوسرے کی ہرگز مزاحم نہیں ہے۔دنیا کی سلطنتوں میں بھی یہی دیکھتے ہیں کہ جرائم پیشہ کو سزا ملتی ہے لیکن جو لوگ اچھے کاموں سے گورنمنٹ کو خوش کرتے ہیں وہ مورد انعام واکرام ہو جاتے ہیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کی اصل صفت رحم ہے اور عدل عقل اور قانون عطا کرنے کے بعد پیدا ہوتا ہے اور حقیقت میں وہ بھی ایک رحم ہے جو اور رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔جب کسی انسان کو عقل عطا ہوتی ہے اور بذریعہ عقل وہ خدا تعالیٰ کے حدود اور قوانین سے واقف ہوتا ہے تب اس حالت میں وہ عدل کے مؤاخذہ کے نیچے آتا ہے۔لیکن رحم کے لئے عقل اور قانون کی شرط نہیں۔اور چونکہ خدا تعالیٰ نے رحم کر کے انسانوں کو سب سے زیادہ فضیلت دینی چاہی اس لئے اس نے انسانوں کے لئے عدل کے قواعد اور حدود