حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 289

۲۸۹ ہے۔یہ تو ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ مالک کی نسبت انصاف کی پابندی کی شرط لگانا بالکل بے جا ہے۔ہاں ہم مالک کی صفاتِ حسنہ میں سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ رحیم ہے وہ جواد ہے وہ فیاض ہے وہ گنہ بخشنے والا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنے زرخرید غلاموں اور گھوڑوں اور گائیوں کی نسبت منصف مزاج ہے کیونکہ انصاف کا لفظ وہاں بولا جاتا ہے جبکہ دونوں طرف ایک قسم کی آزادی حاصل ہو مثلاً ہم مجازی سلاطین کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ وہ منصف ہیں اور رعایا کے ساتھ انصاف کا سلوک کرتے ہیں اور جب تک رعایا اُن کی اطاعت کرے اُن پر بھی انصاف کا قانون یہ واجب کرتا ہے کہ وہ بھی رعایا کی اطاعت اور خراج گذاری کے عوض میں اُن کے مال و جان کی پوری نگہبانی کریں اور ضرورتوں کے وقت اپنے مال میں سے اُن کی مدد کریں۔پس ایک پہلو سے سلاطین رعایا پر حکم چلاتے ہیں اور دوسرے پہلو سے رعیت سلاطین پر حکم چلاتی ہے۔اور جب تک یہ دونوں پہلو اعتدال سے چلتے ہیں تب تک اس ملک میں امن رہتا ہے اور جب کوئی بے اعتدالی رعایا کی طرف سے یا بادشاہوں کی طرف سے ظہور میں آتی ہے تبھی ملک میں سے امن اُٹھ جاتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ ہم بادشاہوں کو حقیقی طور پر مالک نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کو رعایا کے ساتھ اور رعایا کو اُن کے ساتھ انصاف کا پابند رہنا پڑتا ہے۔مگر ہم خدا کو اُس کی مالکیت کے لحاظ سے رحیم تو کہہ سکتے ہیں مگر منصف نہیں کہہ سکتے۔کوئی شخص مملوک ہو کر مالک سے انصاف کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ہاں تضرع اور انکسار سے رحم کی درخواست کر سکتا ہے۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے تمام قرآن شریف میں اپنا نام منصف نہیں رکھا کیونکہ انصاف دوطرفہ برابری اور مساوات کو چاہتا ہے۔ہاں اس طرح پر خدا تعالیٰ منصف ہے کہ بندوں کے باہمی حقوق میں انصاف کرتا ہے لیکن اس طرح منصف نہیں کہ کوئی بندہ شریک کی طرح اس سے کوئی حق طلب کر سکے کہ کیونکہ بندہ خدا کی ملک ہے اور اس کو اختیار ہے کہ اپنی ملک کے ساتھ جس طرح چاہے معاملہ کرے۔جس کو چاہے بادشاہ بنا وے۔جس کو چاہے فقیر بنا دے۔اور جس کو چاہے چھوٹی عمر میں وفات دے اور جس کو چاہے لمبی عمر عطا کرے۔اور ہم بھی تو جب کسی مالک کے مالک ہوتے ہیں تو اس کی نسبت پوری آزادی رکھتے ہیں ہاں خدا رحیم ہے بلکہ اَرحَمُ الرَّاحِمین ہے وہ اپنے رحم کے تقاضا سے نہ کسی انصاف کی پابندی سے اپنی مخلوقات کی پرورش کرتا ہے۔کیونکہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ مالک کا مفہوم منصف کے مفہوم سے بالکل ضد پڑا ہوا ہے۔جبکہ ہم اس کے پیدا کردہ ہیں تو ہمیں کیا حق پہنچتا ہے کہ ہم اس سے انصاف کا مطالبہ کریں۔ہاں نہایت عاجزی سے اس کے رحم کی ضرور درخواست کرتے ہیں اور اس بندہ کی نہایت