حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 288

۲۸۸ گناہ بخش دیتا ہے اور کسی گناہ کی سزا دیتا ہے۔اور پھر اسی سورۃ میں یہ آیت بھی ہے وَهُوَ الَّذِى يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُوا عَنِ السَّيَات لا یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی تو بہ قبول کرتا ہے اور ان کی بدیاں اُن کو معاف کر دیتا ہے۔کسی کو یہ دھوکا نہ لگے کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے۔وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَہ ہے یعنی جو شخص ایک ذرہ بھی شرارت کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا۔پس یادر ہے کہ اس میں اور دوسری آیات میں کچھ تناقض نہیں۔کیونکہ اس شہر سے وہ شتر مراد ہے جس پر انسان اصرار کرے اور اس کے ارتکاب سے باز نہ آوے اور توبہ نہ کرے۔اسی غرض سے اس جگہ شر کا لفظ استعمال کیا ہے۔نہ ذنب کا تا معلوم ہو کہ اس جگہ کوئی شرارت کا فعل مراد ہے جس سے شریہ آدمی باز آنا نہیں چاہتا۔ورنہ سارا قرآن شریف اس بارہ میں بھرا پڑا ہے کہ ندامت اور توبہ اور ترک اصرار اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ کے یعنی اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے اور نیز ان لوگوں سے پیار کرتا ہے کہ جو اس بات پر زور لگاتے ہیں کہ کسی طرح گناہ سے پاک ہو جائیں۔غرض ہر ایک بدی کی سزا دینا خدا کے اخلاق عفو اور درگذر کے برخلاف ہے کیونکہ وہ مالک ہے نہ صرف ایک مجسٹریٹ کی طرح جیسا کہ اس نے قرآن شریف کی پہلی سورۃ میں ہی اپنا نام مالک رکھا ہے۔اور فرمایا کہ ملِكِ يَوْمِ الدین کے یعنی خدا جزا سزا دینے کا مالک ہے۔اور ظاہر ہے کہ کوئی مالک مالک نہیں کہلا سکتا جب تک دونوں پہلوؤں پر اس کو اختیار نہ ہو۔یعنی چاہے تو پکڑے اور چاہے تو چھوڑ دے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳ ۲۴) پھر ہم اصل بحث کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ آریوں کے اصول کی رُو سے اُن کے پرمیشر کا نام مالک ٹھہر نہیں سکتا کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ قدرت نہیں رکھتا کہ بغیر کسی کے حق واجب کے اس کو بطورا کرام انعام کچھ دے سکے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص کسی مال کا مالک ہوتا ہے وہ اختیار رکھتا ہے کہ جس قدر اپنے پاس سے چاہے کسی کو دے دے۔مگر پر میشر کی نسبت آریوں کا یہ اصول ہے کہ نہ وہ گناہ بخش سکتا ہے اور نہ جود و عطا کے طور پر کسی کو وہ کچھ دے سکتا ہے اور اگر وہ ایسا کرے تو اس سے بے انصافی لازم آتی ہے۔لہذا تناسخ کے ماننے والے کسی طرح کہہ نہیں سکتے کہ پر میشر مخلوقات کا مالک الشورى : ٢٦ الزلزال : ٩ البقرة : ٢٢٣ الفاتحة : ۴