حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 286
۲۸۶ اس کی ظاہر ہوں۔غرض اختلاف طبائع جو فطرت مخلوقات میں واقع ہے اس میں حکمتِ الہیہ انہیں امور ثلاثہ میں منحصر ہے جن کو خدائے تعالیٰ نے آیات ممدوحہ میں بیان کر دیا۔فتدبر۔( براہین احمدیہ ہر چہار تخصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۳ ۲۰ تا ۲۰۷ حاشیہ نمبر۱۱) پنڈت دیانند کی ستیارتھ پرکاش اردو کے صفحہ ۵۰۱ میں لکھا ہے کہ پر میشر کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا ایسا کرے تو بے انصاف ٹھہرتا ہے پس اس نے مان لیا ہے کہ پر میشر محض ایک حج کی طرح ہے مالکانہ حیثیت اس کو حاصل نہیں۔ایسا ہی پنڈت دیانند نے اپنی کتاب ترجمہ شدہ کے صفحہ ۵۰۱ میں لکھا ہے کہ پرمیشر محدود افعال کا ثمرہ غیر محدود نہیں دے سکتا پس ظاہر ہے کہ اگر وہ مالکانہ اختیار رکھتا ہے تو محدود خدمت کے عوض میں غیر محدود شمرہ دینے میں اس کا کیا حرج ہے کیونکہ مالک کے کاموں کے ساتھ انصاف کو کچھ تعلق نہیں۔ہم بھی اگر کسی مالک کے مالک ہو کر سوالیوں کو کچھ دینا چاہیں تو کسی سوالی کا حق نہیں کہ یہ شکایت کرے کہ فلاں شخص کو زیادہ دیا اور مجھے کم دیا۔اسی طرح کسی بندہ کا خدا تعالیٰ کے مقابل پر حق نہیں کہ اس سے انصاف کا مطالبہ کرے۔کیونکہ جس حالت میں جو کچھ بندہ کا ہے وہ سب کچھ خدا کا ہے۔تو نہ تو یہ بندہ کا حق ہے کہ انصاف کی رو سے اس سے فیصلہ چاہے اور نہ خدا کی یہ شان ہے کہ اپنی مخلوق کا یہ مرتبہ تسلیم کر لے کہ وہ لوگ اس سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کے لئے مجاز ہیں۔پس درحقیقت جو کچھ خدا تعالیٰ بندہ کو اس کے اعمال کی جزائیں دیتا ہے وہ اس کا محض انعام اکرام ہے ورنہ اعمال کچھ چیز نہیں بغیر خدا کی تائید اور فضل کے اعمال کب ہو سکتے ہیں۔پھر ماسوا اس کے جب ہم خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت کی طرف نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کچھ اپنے بندوں کے لئے مہیا کیا ہے یا کرتا ہے وہ دو قسم کی بخشش ہے۔ایک تو اس کے وہ انعام اکرام ہیں جو انسانوں کے وجود سے بھی پہلے ہیں اور ایک ذرہ انسانوں کے عمل کا اُن میں دخل نہیں جیسا کہ اوس نے انسانوں کے آرام کے لئے سورج چاند ستارے زمین پانی ہوا آگ وغیرہ چیزیں پیدا کی ہیں اور کچھ شک نہیں کہ ان چیزوں کو انسانوں کے وجود اور اُن کے عملوں پر تقدم ہے اور انسان کا وجود اُن کے وجود کے بعد ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی وہ رحمت کی قسم ہے جس کو قرآنی اصطلاح کی رو سے رحمانیت کہتے ہیں۔یعنی ایسی جود و عطا جو بندہ کے اعمال کی پاداش میں نہیں بلکہ محض فضل کی راہ سے ہے۔دوسری قسم رحمت کی وہ ہے جس کو قرآنی اصطلاح میں رحیمیت کہتے ہیں یعنے وہ انعام اکرام جو بنام نہاد پاداش اعمال حسنہ انسان کو عطا ہوتا ہے۔پس جس خدا نے اپنی فیاضانہ مالکیت کا وہ نمونہ دکھلایا کہ