حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 285
۲۸۵ کی طرف سے صادر ہو سکتا ہے جس کی ذات سہو و خطا وظلم وتعدی سے بکلی پاک ہو۔اور نیز اپنی ذات میں واجب الانقیا داور واجب التعظیم بھی ہو۔کیونکہ گو کوئی قانون عمدہ ہو مگر قانون کا جاری کرنے والا اگر ایسا نہ ہو جس کو باعتبار مرتبہ اپنے کے سب پر فوقیت اور حکمرانی کا حق ہو یا اگر ایسا نہ ہو جس کا وجود لوگوں کی نظر میں ہر یک طور کے ظلم وخبث اور خطا اور غلطی سے پاک ہو تو ایسا قانون اول تو چل ہی نہیں سکتا۔اور اگر کچھ دن چلے بھی تو چند ہی روز میں طرح طرح کے مفاسد پیدا ہو جاتے ہیں۔اور بجائے خیر کے شر کا موجب ہو جاتا ہے۔ان تمام وجوہ سے کتاب الہی کی حاجت ہوئی کیونکہ ساری نیک صفتیں اور ہر یک طور کی کمالیت و خوبی صرف خدا ہی کی کتاب میں پائی جاتی ہے وبس۔دوم حکمت تفاوت مراتب رکھنے میں یہ ہے کہ تا نیک اور پاک لوگوں کی خوبی ظاہر ہو۔کیونکہ ہر یک خوبی مقابلہ ہی سے معلوم ہوتی ہے۔جیسے فرمایا ہے۔اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلا الجزو نمبر ۱۵۔یعنی ہم نے ہر یک چیز کو جو زمین پر ہے زمین کی زینت بنا دیا ہے۔تا جو لوگ صالح آدمی ہیں بمقابلہ بُرے آدمیوں کے اُن کی صلاحیت آشکارا ہو جائے۔اور کثیف کے دیکھنے سے لطیف کی لطافت کھل جائے۔کیونکہ ضد کی حقیقت ضد ہی سے شناخت کی جاتی ہے اور نیکوں کا قدر و منزلت بدوں ہی سے معلوم ہوتا ہے۔سوم حکمت تفاوت مراتب رکھنے میں انواع و اقسام کی قدرتوں کا ظاہر کرنا۔اور اپنی عظمت کی طرف توجہ دلانا ہے۔جیسا فرما یا مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا۔وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ت نمبر ۲۹۔یعنی تم کو کیا ہو گیا کہ تم خدا کی عظمت کے قائل نہیں ہوتے۔حالانکہ اُس نے اپنی عظمت ظاہر کرنے کے لئے تم کو مختلف صورتوں اور سیرتوں پر پیدا کیا یعنی اختلاف استعدادات وطبائع اسی غرض سے حکیم مطلق نے کیا تا اُس کی عظمت و قدرت شناخت کی جائے۔جیسا دوسری جگہ بھی فرمایا ہے۔وَاللهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِنْ مَّاءٍ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ وَمِنْهُمْ مِّنْ يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ الجزو نمبر ۱۸ یعنی خدا نے ہر یک جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔سو بعض جاندار پیٹ پر چلتے ہیں اور بعض دو پائوں پر۔بعض چار پائوں پر۔خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔خدا ہر چیز پر قادر ہے۔یہ بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے یہ مختلف چیزیں اس لئے بنائیں کہ تا مختلف قدرتیں الكهف : نوح :۱۵،۱۴ النور : ۴۶