حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 284

۲۸۴ رہے۔اور رئیس اور امیر اور دولتمند کہلانے پر پھولتے رہے اور اصل مقصود کو بھول گئے اور بعض کو فضائل روحانیت اور کمالات قدسیہ عنایت فرمائے اور وہ اس محبوب حقیقی کی محبت میں محو ہو کر مقرب بن گئے اور مقبولانِ حضرت احدیت ہو گئے۔( پھر بعد اس کے اس حکمت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو اس اختلاف استعدادات اور تباین خیالات میں مخفی ہے ) نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ الخ۔یعنی ہم نے اس لئے بعض کو دولتمند اور بعض کو درویش اور بعض کو لطیف طبع اور بعض کو کثیف طبع اور بعض طبیعتوں کو کسی پیشہ کی طرف مائل اور بعض کو کسی پیشہ کی طرف مائل رکھا ہے تا اُن کو یہ آسانی پیدا ہو جائے کہ بعض کے لئے بعض کار برار اور خادم ہوں اور صرف ایک پر بھار نہ پڑے۔اور اس طور پر مہمات بنی آدم بآسانی تمام چلتے رہیں۔اور پھر فرمایا کہ اس سلسلہ میں دنیا کے مال و متاع کی نسبت خدا کی کتاب کا وجود زیادہ تر نفع رساں ہے۔یہ ایک لطیف اشارہ ہے جو ضرورتِ الہام کی طرف فرمایا۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ انسان مدنی الطبع ہے اور بجز ایک دوسرے کی مدد کے کوئی امر اس کا انجام پذیر نہیں ہوسکتا۔مثلاً ایک روٹی کو دیکھئے جس پر زندگانی کا مدار ہے۔اس کے طیار ہونے کے لئے کس قدر تمدن و تعاون درکار ہے۔زراعت کے تر ڈر سے لے کر اس وقت تک کہ روٹی پک کر کھانے کے لائق ہو جائے بیسیوں پیشہ وروں کی اعانت کی ضرورت ہے۔پس اس سے ظاہر ہے کہ عام امور معاشرت میں کس قدر تعاون اور باہمی مدد کی ضرورت ہو گی۔اسی ضرورت کے انصرام کے لئے حکیم مطلق نے بنی آدم کو مختلف طبیعتوں اور استعدادوں پر پیدا کیا تا ہر ایک شخص اپنی استعداد اور میل طبع کے موافق کسی کام میں بہ طیب خاطر مصروف ہو کوئی کھیتی کرے۔کوئی آلات زراعت بناوے۔کوئی آٹا پیسے۔کوئی پانی لاوے۔کوئی روٹی پکاوے کوئی سوت کاتے۔کوئی کپڑا بنے۔کوئی دوکان کھولے۔کوئی تجارت کا اسباب لا وے۔کوئی نوکری کرے اور اس طرح پر ایک دوسرے کے معاون بن جائیں۔اور بعض کو بعض مدد پہنچاتے رہیں۔پس جب ایک دوسرے کی معاونت ضروری ہوئی تو ان کا ایک دوسرے سے معاملہ پڑنا بھی ضروری ہو گیا۔اور جب معاملہ اور معاوضہ میں پڑ گئے اور اس پر غفلت بھی جو استغراق امور دنیا کا خاصہ ہے عائد حال ہو گئی تو اُن کے لئے ایک ایسے قانونِ عدل کی ضرورت پڑی جو اُن کو ظلم اور تعدی اور بغض اور فساد اور غفلت من اللہ سے روکتا رہے تا نظام عالم میں ابتری واقع نہ ہو۔کیونکہ معاش و معاد کا تمام مدار انصاف اور خداشناسی پر ہے۔اور التزام انصاف و خدا ترسی ایک قانون پر موقوف ہے جس میں دقائق معدلت وحقائق معرفت الہی بدرستی تمام درج ہوں اور سہو یا عمداً کسی نوع کا ظلم یا کسی نوع کی غلطی نہ پائی جاوے۔اور ایسا قانون اسی