حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 280

۲۸۰ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ ان قوتوں کا موجد نہیں جن قوتوں کے استعمال سے وہ کسی صنعت کو طیار کرتا ہے۔بلکہ یہ تمام موجد بنی بنائی قوتوں سے کام لیتے ہیں جیسا کہ انجن چلانے میں بھاپ کی طاقتوں سے کام لیا جاتا ہے۔پس فرق یہی ہے کہ خدا نے عصر وغیرہ میں یہ طاقتیں خود پیدا کی ہیں۔مگر یہ لوگ خود طاقتیں اور قو تیں پیدا نہیں کر سکتے۔پس جب تک خدا کو ذرات عالم اور ارواح کی تمام قوتوں کا موجد نہ ٹھہرایا جائے تب تک خدائی اُس کی ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی اور اس صورت میں اس کا درجہ ایک معمار یا نجار يا حداد یا گلگو سے ہرگز زیادہ نہیں ہوگا۔یہ ایک بدیہی بات ہے جو رڈ کے قابل نہیں۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳ ۳۸ ۳۸۴) ہم اپنے کامل ایمان اور پوری معرفت سے یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ اصول آریہ سماجیوں کا ہرگز درست نہیں کہ ارواح اور ذرات اپنی تمام قوتوں کے ساتھ قدیم اور انادی اور غیر مخلوق ہیں۔اس سے تمام وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے جو خدا میں اور اوس کے بندوں میں ہے۔یہ ایک نیا اور مکروہ مذہب ہے جو پنڈت دیانند نے پیش کیا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ وید سے کہاں تک اس مذہب کا تعلق ہے لیکن ہم اس پر بحث کرتے ہیں کہ یہ اصول جو آریہ سماجیوں نے اپنے ہاتھ سے شائع کیا ہے یہ عقل سلیم کے نزدیک کامل معرفت اور کامل غور اور کامل سوچ کے بعد ہرگز درست نہیں۔سناتن دھرم کا اصول جو اس کے مقابل پر پڑا ہوا ہے اس کو اگرچہ ویدانت کے بے جا مبالغہ نے بدشکل کر دیا ہے اور ویدانتیوں کی افراط نے بہت سے اعتراضات کا موقعہ دے دیا ہے تاہم اس میں سچائی کی ایک چمک ہے۔اگر اس عقیدے کو زوائد سے الگ کر دیا جائے تو ماحصل اس کا یہی ہوتا ہے کہ ہر ایک چیز پر میشر کے ہی ہاتھ سے نکلی ہے۔پس اس صورت میں تمام شبہات دُور ہو جاتے ہیں اور ماننا پڑتا ہے کہ بموجب اصول سناتن دھرم کے وید کا عقیدہ بھی یہی ہے کہ یہ تمام ارواح اور ذرات اجسام اور ان کی قوتیں اور طاقتیں اور گن اور خا صیتیں خدا کی طرف سے ہیں۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۳۸۷) قرآن شریف نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ انسان مع اپنی رُوح اور تمام قوتوں اور ذرہ ذرہ وجود کے خدا کی مخلوق ہے۔جس کو اُس نے پیدا کیا۔لہذا قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے ہم خدا تعالیٰ کے خالص ملک ہیں اور اُس پر ہمارا کوئی بھی حق نہیں ہے جس کا ہم اُس سے مطالبہ کریں۔یا جس کے ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ ملزم ٹھہر سکے۔اس لئے ہم اپنے مقابل پر خدا کا نام منصف نہیں رکھ سکتے بلکہ ہم بالکل تہی دست ہونے کی وجہ سے اُس کا نام رحیم رکھتے ہیں۔غرض منصف کہنے کے اندر یہ شرارت مخفی ہے کہ